برلسکونی کے پوسٹر: اشتہاری کمپنی کے ملازمین برطرف

Image caption اشتہار میں تین لڑکیاں کار کی ڈکی میں بندھی ہوئی ہیں جب کہ برلسکونی ڈرائیوانگ سیٹ پر ہیں

بھارت کی ایک اشتہاری کمپنی جے ڈبلیو ٹی نے اپنے چند ملازمین کو متنازع اشتہاروں کی پاداش میں نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ ان اشتہاری پوسٹروں میں سابق اطالوی وزیرِ اعظم سلویو برلسکونی کو چند بندھی ہوئی لڑکیوں کے ساتھ ایک کار کے اندر دکھایا گیا تھا۔

اشتہاروں کو تجارتی طور پر نہیں استعمال کیا گیا تاہم انھیں ایک ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا۔

جے ڈبلیو ٹی دنیا کی سب سے بڑی اشتہاری کمپنی ڈبلیو پی پی کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پوسٹر ’ناگوار‘ تھے اور کمپنی کے قائم کردہ معیار کے خلاف تھے۔

کمپنی کے مینیجنگ پارٹنر بابی پوار کو مستعفی ہونے کا کہا گیا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق کری ایٹیو ڈائریکٹر وجے سمہا کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

جے ڈبلیو ٹی نے ایک بیان میں کہا، ’ہمیں ان پوسٹروں کی اشاعت پر بڑا افسوس ہے۔

’جامع اندرونی جانچ پڑتال کے بعد ہم نے مناسب تادیبی کارروائی کی ہے، جن میں ملازمین کی برطرفی بھی شامل ہے۔‘

ایک اشتہار میں برلسکونی کو ڈرائیونگ سیٹ پر دکھایا گیا ہے، گاڑی کی ڈکی میں تین عورتیں بندھی ہوئی ہیں، جب کہ نیچے لکھا ہوا ہے: ’فیگو کی بڑی ڈکی کی وجہ سے اپنی پریشانیاں پیچھے چھوڑ دیں۔‘

یہ اشتہار ایک ویب سائٹ پر اس کے چند دن بعد ہی شائع کر دیے گئے تھے جب بھارت میں جنسی زیادتی کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے تھے۔

ان اشتہاروں کے خلاف سوشل میڈیا میں خاصا احتجاج ہوا اور لوگوں نے انھیں جنسی تعصب کا نمونہ قرار دیا۔

اس تنازعے کی وجہ سے فورڈ موٹر کمپنی کی بھارتی شاخ کو اس ہفتے کے اوائل میں معافی نامہ جاری کرنا پڑا تھا۔

جے ڈبلیو ٹی نے بھی پوسٹروں کی مذمت کی اور کہا کہ ’انھیں بنایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا، انٹرنیٹ پر شائع کرنا تو دور کی بات ہے۔

’اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بغیر مناسب نگرانی کے کام کیا۔‘

بعض اطلاعات کے مطابق فورڈ جے ڈبلیو ٹی کے بڑے گاہکوں میں سے ایک ہے۔