ڈیوڈ ملی بینڈ کا سیاست ترک کرنے کا اعلان

Image caption ڈیوڈ نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے قریبی دوستوں اور سیاسی صلاح کاروں سے مشورہ نہیں کیا

برطانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے پارلیمان سے مستعفی ہونے اور ایک امریکی خیراتی ادارے کے لیے کام کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ امریکی شہر نیویارک منتقل ہو کر انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نامی ادارے کی سربراہی سنبھالیں گے۔

47 سالہ ڈیوڈ ملی بینڈ کو دو ہزار دس میں اپنے بھائی ایڈ ملی بینڈ کے ہاتھوں پارٹی انتخابات میں شکست کے بعد لیبر پارٹی کی سربراہی چھوڑنی پڑی تھی۔

اس کے بعد سے ڈیوڈ سیاسی منظر پر زیادہ سرگرم نہیں تھے اور انہوں نے اپنے بھائی کی شیڈو کابینہ میں شامل ہونے سے بھی انکار کیا تھا۔

حال ہی میں ایسی افواہیں بھی سامنے آئی تھیں کہ ڈیوڈ نے ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اب ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’بہت سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر کا عہدہ قبول کر لوں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے لیے سیاست ترک کرنا اور پارلیمان کو چھوڑنا ’بہت مشکل‘ فیصلہ تھا۔

سیاسی امور کے لیے بی بی سی کے مدیر نک رابنسن کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے قریبی دوستوں اور سیاسی صلاح کاروں سے مشورہ نہیں کیا بلکہ انہیں صرف اس سے مطلع کیا کیونکہ یقیناً ڈیوڈ جانتے تھے کہ وہ انہیں فیصلہ بدلنے پر مجبور کریں گے۔

نک رابنسن کے مطابق وہ اس فیصلے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کے تحت کام نہیں کرنا چاہتے جوکہ ان کے بھائی کے لیے ایک دھچکا اور ان کی جماعت کے لیے مایوس کن ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کیون میگوائر کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ نے ایڈ کو اس فیصلے سے’چند ہفتے قبل آگاہ کر دیا تھا۔‘

برطانیہ میں برسرِ اقتدار کنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین گرانٹ شیپس نے اس فیصلے کو ’حیران کن‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی سیاست میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور ہم ان کے شاندار مستقبل کے خواہشمند ہیں۔

سنڈر لینڈ فٹبال کلب کے نائب چیئرمین ڈیوڈ ملی بینڈ کی اہلیہ بھی امریکی ہیں اور ان کے دو بچے ہیں اور گزشتہ برس کے آغاز میں انہوں نے پاکستان کی ایک نجی سرمایہ کار فرم انڈس بیسن ہولڈنگز میں سینئر مشیر کا عہدہ بھی قبول کیا تھا۔

اسی بارے میں