’کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کا تعین نہیں کریں گے‘

Image caption سویڈش دان ایکے سیلسٹورم انیس سو نوے میں عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش اور تلف کرنے کے لیے اقوام متحدہ ک جانب سے مقرر کیے گئے معائنہ کار کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے مقرر کیے جانے والے سویڈش سائنسدان ایکے سیلسٹورم نے کہا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے والوں کا تعین نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شام میں باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے ایکے سیلسٹورم کو متعین کیا تھا جو اس سے پہلے عراق میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل رہ چکے ہیں۔

ایکے سیلسٹورم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی جانب سے تفویض کیے گئے اختیار میں مختلف نوعیت کا مواد سائنسی انداز میں اکٹھا کرنا ہے مگر اس بارے میں فیصلہ کرنا نہیں ہے کہ اس کے حلب میں استعمال کا حکم کس نے جاری کیا ہو گا۔

شام کی حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں حلب شہر کے قریب ایک گاؤں میں زہریلی گیس پرمشتمل راکٹ داغے گئے تھے۔

اس بارے میں کوئی معین اور تصدیق شدہ بات نہیں ہے کہ واقعی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے کہ نہیں۔

ایکے سیلسٹورم نےبی بی سی کو بتایا کہ اگر سکیورٹی صورتحال نے اجازت دی تو ان کی ٹیم اگلے ہفتے کے اوائل میں شام روانہ ہو جائے گی ۔

سیکرٹری جنرل بان گی مون نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کے شہری کو بھی اس تفتیش میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انیس مارچ کو شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ راکٹ باغیوں نے داغے اور شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق صوبہ حلب کے علاقے خان الاصل میں شدت پسندوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ تر عام شہری شامل تھے۔

شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدت پسندوں نے ایک میزائل استعمال کیا جس میں کیمیائی مواد شامل تھا۔

چونکہ اس معاملے کی آزاد زرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اس لیے اقوام متحدہ کے اس مشن کی تشکیل سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔

اسی بارے میں