’اسلام آباد کے پاس شواہد ہیں تو پیش کرے‘

افغانستان کے صدارتی ترجمان نے پاکستانی طالبان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے پاس اگر شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان نے افغانستان کے علاقوں کنڑ اور نورستان میں تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے کہا تھا کہ یہ عناصر پاکستان کے خلاف ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ تمام سطحوں پر کئی بار اٹھایا ہے اور امید ظاہر کی کہ تحریک طالبان پاکستان کے ان محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے بی بی سی پشتو کو ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان شدت پسندوں کو دی جانے والی مدد سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کے الزامات افغانستان پر لگا رہا ہے۔

صدارتی ترجمان ایمل فیضی نے کہا کہ’ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب جو حالات سامنے آئے ہیں، اس وجہ سے دہشت گرد گروہ موجود ہیں اور دونوں ممالک کے عوام پر حملے کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی نادرست سیاست کی وجہ سے ہے کہ گذشتہ سالوں کے دوران دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں کو افغانستان اور بھارت کے خلاف خطے میں اپنی خارجی سیاست کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب پاکستان سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کون ایسے حالات سامنے لانے کا سبب بنا۔‘

صدارتی ترجمان نے افغانستان میں تحریک طالبان کے شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق پاکستان کے الزامات کے بارے میں مزید کہا کہ ’اس سلسلے میں اگر پاکستان کے پاس شواہد ہیں تو وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کر سکتے ہیں، اور اگر انہیں اگر ہماری مدد چاہیے تو شواہد کا ہمارے ساتھ تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کا یہ دعویٰ یقیناً بے بنیاد ہے اور پاکستان یہ چاہتا ہے کہ وہ اس طرح سے رائے عامہ کو گمراہ کرے اور وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ بھی جنگ میں قربانی دے رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان نے گیارہ افغان افسران کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فوجی مشق میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی تاہم افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے توپوں کی مبینہ’شیلنگ‘ کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں افغانستان کی جانب سے دراندازی ہو رہی تھی اور پاک فوج نے کارروائی کی۔

انہوں نے کہا ’پاکستانی فوج نے ایک چھوٹی سے کارروائی کی جس میں توپ خانے کا استعمال یا شیلنگ نہیں کی گئی۔افغانستان ضرورت سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کر رہا ہے۔‘

اسی بارے میں