’مینڈیلا کی طبعیت میں قدرے بہتری آئی ہے‘

Image caption مینڈیلا کو جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک میں ان کے کردار پر بابائے قوم کہا جاتا ہے

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں میں انفیکشن کے علاج کے لیے دوسرے روز بھی ہسپتال میں ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی طبعیت میں قدرے بہتری آئی ہے۔

اسی دوران جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا کہ لوگوں کو نیلسن مینڈیلا کی طبیعت کی ناسازی پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

صدر جیکب زوما نے یہ بیان سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر عوام کو تسلی دلاتے ہوئے دیا۔

صدر جیکب زوما نے کہا کہ صدر نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں کے علاج کے بعد بہتر ہو رہے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’نیلسن مینڈیلا بہتر حالت میں ہے اور جمعہ کی صبح انہوں نے ٹھیک سے ناشتہ کیا ہے اور ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے حالانکہ ان کا علاج جاری ہے‘۔

بی بی سی کو ایک انٹرویو میں صدر جیکب زوما نے کہا کہ عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اور انہوں نے نیلسن مینڈیلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مادیبا ہم چاہتے ہیں کہ آپ جلد صحت یاب ہو جائیں اور ہم آپ کو جلد از جلد گھر واپس دیکھنا چاہتے ہیں‘۔

صدر جیکب زوما نے کہا کہ ’میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مادیبا اب جوان نہیں ہیں اور اگر وہ چیک اپ کے لیے ہسپتال آتے جاتے ہیں تو اس پر لوگوں کو خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجانی شروع کر دینی چاہیں۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عوام کو بے چین نہیں ہونا چاہیے‘۔

جنوبی افریقہ کے سابق صدر 94 سالہ نیلسن مینڈیلا کو پھیپھڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے بدھ کی شب ہسپتال منتقل کیا گیا۔

نیلسن مینڈیلا کی صحت کئی سالوں سے تشویش کا باعث رہی ہے اور انہوں نے گذشتہ دسمبر میں بھی اسی بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں اٹھارہ دن گزارے تھے۔

اس سے قبل صدر جیکب زوما کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں صدر نے کہا ’ہم جنوبی افریقہ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے پیارے مادیبا اور ان کے خاندان کے لیے دعا کریں۔ ہمیں میڈیکل ٹیم پر مکمل اعتماد ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ان کی جلد صحتیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

مینڈیلا کو جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک میں ان کے کردار پر بابائے قوم کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس مہم کے دوران بیس سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انہیں فروری سنہ انیس سو نوے میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ انیس سو ترانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نیلسن مینڈیلا سنہ انیس سو چورانوے سے انیس سو ننانوے کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ دو ہزار چار کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

وہ روبین جزیرے میں قید کے دوران پہلی دفعہ دمہ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے جہاں پتھر توڑنے کی بیگار کرنے کے دوران ان کے پھیپھڑوں میں تکلیف کا آغاز ہوا تھا۔

انہیں پہلی بار سنہ دو ہزار گیارہ میں سینے میں شدید تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا تھا جبکہ رواں برس انہیں پیٹ کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔

اسی بارے میں