’طالبان سے مذاکرات‘ پر بات چیت، کرزئی قطر میں

Image caption قطر میں طالبان کا دفتر کھلنے کی خبریں بھی کافی عرصے سے گردش میں ہیں

افغانستان کے صدر حامد کرزئی قطری حکام سے بات چیت کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر کھولنے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کھولنے کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کی سمت طے کرنے کے سلسلے میں اہم قدم مانا جاتا ہے۔

صدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ قطر میں بات چیت کا موضوع دوطرفہ تعاون اور افغانستان میں قیامِ امن کا عمل ہوگا۔

قطر میں طالبان کا دفتر کھلنے کی خبریں بھی کافی عرصے سے گردش میں ہیں۔ طالبان کے ایک درجن کے قریب سیاسی ممبران گزشتہ ایک سال سے قطر میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں لیکن افغان طالبان نے ابھی تک اپنے دفتر کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق نہیں کی ہے۔

امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان سے مذاکرات کا پہلا دور مارچ دو ہزار بارہ میں دوحہ میں ہی منعقد کیا تھا جو ناکام رہا تھا۔

دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن جیسے جیسے قریب آ رہی ہے افغان قضیے کے حل کی کوششوں میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بارہ سال میں پہلی بار افغان حکام اور طالبان سمیت افغانستان میں سرگرم مختلف دھڑوں کے درمیان غیر رسمی بات چیت ہوئی تھی جس کا ایک نکاتی ایجنڈا افغانستان میں جنگ کا خاتمہ تھا۔

تاہم افغان طالبان مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکومت کو اپنا اصل فریق مانتے ہیں اور ان کا شروع سے موقف رہا ہے کہ امریکی حکام سے مذاکرات کے بعد ہی افغان حکام سے بات چیت ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں