جنوبی کوریا کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں: شمالی کوریا

Image caption شمالی کوریا میں جمعے کے روز ایک جلوس نکالا گیا

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے خلاف بیان بازی میں شدت لاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’حالتِ جنگ‘ میں داخل ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا نے ایک بیان میں ’کسی بھی اشتعال انگیز اقدام‘ کے خلاف ’سخت جوابی کارروائی‘ کا تہیہ کیا ہے۔

فروری میں تیسرے جوہری تجربے کے شمالی کوریا نےتقریباً ہر دن بعد حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

تاہم بہت کم لوگوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا جنگ کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔

جنوبی اور شمالی کوریا تکنیکی طور پر 1953 کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں۔

سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کہتی ہیں کہ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ جنگ شمالی کوریا کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔

تاہم ہماری نامہ نگار کے مطابق جانبین میں چھوٹی موٹی جھڑپیں ہو سکتی ہیں۔

اس سے قبل روس اور چین نے خبردار کیا تھا کہ جزیرہ نما کوریا میں فریقین ممکنہ طور پر خطرناک تصادم سے گریز کریں۔

دونوں ممالک کی جانب سے یہ اپیل اس دھمکی کے بعد آئی ہے جس میں شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے جزیرہ نما کوریا پر امریکی ’سٹیلتھ‘ بمبار طیاروں کی پروازوں کے جواب میں اپنے میزائل یونٹوں کو امریکی اہداف پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

روس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ صورتحال تباہی کی جانب جا سکتی ہے۔

Image caption جنوبی اور شمالی کوریا تکنیکی طور پر 1953 کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں

چین اور روس شمالی کوریا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور دونوں نے فوری طور پر فریقین سے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

جزیرہ نما کوریا میں حالیہ تناؤ کا آغاز بارہ فروری کو شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا نے اس دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی متعدد دھمکیاں دی ہیں جن میں امریکی سرزمین پر جوہری حملے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس امریکی سرزمین کو کسی جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے تاہم وہ اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے ایشیا میں واقع کچھ امریکی فوجی اڈوں کو ضرور نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی بارے میں