نیلسن مینڈیلا کی طبعیت میں بہتری

Image caption جنوبی افریقہ کے سابق صدر 94 سالہ نیلسن مینڈیلا کو پھیپھڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے بدھ کی شب ہسپتال منتقل کیا گیا تھا

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی طبعیت بہتر ہے اور اب وہ بغیر کسی تکلیف کے سانس لے رہے ہیں۔

نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں میں انفیکشن کے علاج کے لیے تین دن سے ہسپتال میں ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سابق صدر مزید کتنا عرصہ ہسپتال میں قیام کریں گے۔

جمعہ کو جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کی طبعیت میں قدرے بہتری آئی ہے۔

حکام سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی نجی زندگی میں مداخلت کو روکنے کے لیے اس ہسپتال کا نام ظاہر نہیں کر رہے ہیں جہاں وہ زیرعلاج ہیں۔

جمعہ کو جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا تھا کہ لوگوں کو نیلسن مینڈیلا کی طبیعت کی ناسازی پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

صدر جیکب زوما نے یہ بیان سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر عوام کو تسلی دلاتے ہوئے دیا۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’نیلسن مینڈیلا بہتر حالت میں ہے اور جمعہ کی صبح انہوں نے ٹھیک سے ناشتہ کیا ہے اور ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے حالانکہ ان کا علاج جاری ہے‘۔

بی بی سی کو ایک انٹرویو میں صدر جیکب زوما نے کہا کہ عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اور انہوں نے نیلسن مینڈیلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مادیبا ہم چاہتے ہیں کہ آپ جلد صحت یاب ہو جائیں اور ہم آپ کو جلد از جلد گھر واپس دیکھنا چاہتے ہیں‘۔

صدر جیکب زوما نے کہا کہ ’میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ انہیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مادیبا اب جوان نہیں ہیں اور اگر وہ چیک اپ کے لیے ہسپتال آتے جاتے ہیں تو اس پر لوگوں کو خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجانی شروع کر دینی چاہیں۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عوام کو بے چین نہیں ہونا چاہیے‘۔

نیلسن مینڈیلا کی صحت کئی سالوں سے تشویش کا باعث رہی ہے اور انہوں نے گذشتہ دسمبر میں بھی اسی بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں اٹھارہ دن گزارے تھے۔

مینڈیلا کو جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک میں ان کے کردار پر بابائے قوم کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس مہم کے دوران بیس سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انہیں فروری سنہ انیس سو نوے میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ انیس سو ترانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نیلسن مینڈیلا سنہ انیس سو چورانوے سے انیس سو ننانوے کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ دو ہزار چار کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

وہ روبین جزیرے میں قید کے دوران پہلی دفعہ دمہ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے جہاں پتھر توڑنے کی بیگار کرنے کے دوران ان کے پھیپھڑوں میں تکلیف کا آغاز ہوا تھا۔

انہیں پہلی بار سنہ دو ہزار گیارہ میں سینے میں شدید تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا تھا جبکہ رواں برس انہیں پیٹ کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔