بنگلہ دیش: سولہ ماہی گیر ہلاک

بنگلہ دیش کے پانیوں میں بحری قزاقوں نے سولہ ماہی گیروں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر سمندر میں پھینک کر ان کی کشتی چوری کر لی ہے۔

بنگلہ دیش کی پولیس کے ایک اہلکار عمران بھوین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ خلیج بنگال میں سولہ ماہی گیروں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں سمندر میں پھینکا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تین ماہی گیروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی ماندہ کی تلاش جاری ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق لاشوں پر زخم کا کوئی نشان نہیں ہے اور اس کا بات کا خدشہ ہے کہ ان افراد کو زندہ سمندر میں پھینکا گیا۔

پولیس کے مطابق قطب دیا جزیرے کے قریب ماہی گیروں کی ایک کشتی نے تین لاشوں کو دیکھا اور انہیں سمندر سے نکال لیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی نیوی بقیہ ماہی گیروں کو ڈھونڈنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

بنگلہ دیشی نیوی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار انبراسن ایتھراجن کو بتایا کہ دو جہاز ماہی گیروں کو تلاش کر رہے ہیں

نیوی اہلکار نے بتایا کہ سمندر کے اس علاقے میں بحری قزاقی تو عام ہے لیکن اتنی تعداد میں لوگوں کو ہلاک کرنا قطعاً عام نہیں ہے۔