شام: ’خونی مہینے‘ میں چھ ہزار افراد ہلاک

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں جاری شورش میں ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مارچ دو ہزار تیرہ شام میں دو سالوں سے جاری شورش میں سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا ہے جس میں چھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم ایک تنظیم کی جمع کردہ معلومات کے مطابق مارچ دو ہزار تیرہ میں شام میں چودہ سو سے زیادہ باغیوں سمیت چھ ہزار پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شامی حکومت کی مخالف ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم کے مطابق مارچ دو ہزار تیرہ میں ہلاک ہونے والے 6005 افراد میں سے 1485 باغی، 1464 حکومت کی حامی فوجی، 291 عورتیں اور 289 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدل الرحمان نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ شام میں دو سالوں سے جاری شورش میں اب تک تقریباً 120,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم ہلاک ہونے والے 62554 افراد کے کوائف جمع کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری شورش میں اب تک ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو شام میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے اور ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکی ہے۔

دو سال قبل شام میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب خانہ جنگی کی صورت اختیار کر چکا ہے اور غیر ملکی جہادیوں کی اچھی خاصی تعداد وہاں موجود ہے۔ شام کی حکومت کا موقف ہے کہ غیر ملکی مسلح دہشت گرد ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں شام کے فوجیوں کو باغیوں پر برتری حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی حکومت کے اندازوں کے مطابق شام کے اتحادی ممالک، ایران اور روس نے اس کی فوجی اور مالی مدد بڑھا دی ہے اور شامی فوجیوں کی باغیوں پر برتری کی وجہ بھی بیرونی امداد ہے۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر جرمی بوون کے مطابق 2013 میں شام میں ہونے والی ہلاکتوں میں تیزی آئی ہے اور پہلے تین مہینوں میں اتنی ہلاکتیں ہو چکی ہیں جتنی شورش کے پہلے سال میں بھی نہیں ہوئی تھیں۔

شام کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے فرار ہو کر پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ شام سے دس لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور فرانس شامی باغیوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق شامی باغیوں کو فوجی تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے سے مسئلہ مزید خراب ہو گا۔

اسی بارے میں