جنوبی کوریا میں مزید امریکی جنگی جہاز

Image caption شمالی نے کوریا نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’جنگ کی حالت‘ میں داخل ہو رہا ہے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کو بڑھانے کے عہد کے بعد جنوبی کوریا میں مزید جنگی جہاز بھیج دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایف 22 جنگی طیاروں کو تعینات کرنا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کا حصہ ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے اعلیٰ قیادت نے اتوار کو ایک اجلاس میں جوہری ہتھیاروں کو ’قوم کی زندگی‘ قرار دیتے ہوئے اسے مزید بڑھانے کا عہد کیا تھا۔

امریکی اہکاروں کا کہنا ہے کہ ایف 22 طیاروں کو جاپان سے جنوبی کوریا کے اوسان ہوائی آڈے پر لے جایا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹر نے جنوبی کو ریا میں امریکی فوج کی طرف سے جاری بیان کے حولے سے بتایا کہ’جنوبی کوریا کو اشتعال انگیز بیان بازی اور دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس سے شمالی کوریا بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا اور خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان ہو گا۔‘

حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی طرف سے بیان بازی کے دوران امریکی بی 52 اور دوسرے جنگی طیاروں نے بھی ان علاقوں میں پروازیں کیں ہیں۔

شمالی نے کوریا نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’جنگ کی حالت‘ میں داخل ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا فروری میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں اور امریکہ اور جنوبی کوریا کا مشترکہ جنگی مشقوں کی وجہ سے اشتعال میں ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر حملوں کی دھمکیاں دی تھیں جس کا جواب امریکہ نے علاقے میں جنگی جہازوں کی پروازیں شروع کرنے سے دیا ہے۔

گذشتہ مارچ میں امریکہ نے جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بی 2 اور بی 52 جنگی طیارے تعینات کیے تھے۔ اس اقدام کے بعد امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ملٹری ہاٹ لائن یا عسکری رابطہ منقطع کر دیا تھا۔بغض ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا خطرہ نے لے گا۔

اسی بارے میں