’شمالی کوریا تصادم کے راستے پر چل رہا ہے‘

Image caption جوہری دھمکیاں دینا کھیل نہیں: بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ ’شمالی کوریا دوسرے ملکوں کے ساتھ تصادم کے راستے پر چل رہا ہے جو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔‘

سیکریٹری جنرل بان گی مون نے اِس خدشے کا اظہار شمالی کوریا کی طرف سے ایک جوہری پلانٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’حالیہ بحران بہت آگے نکل چکا ہے۔ جوہری دھمکیاں دینا کھیل نہیں۔ دھمکی آمیز رویہ اور عسکری نوعیت کے اشارے دینے کے نتائج ہم پلہ ردعمل، خوف اور عدم استحکام ہو سکتے ہیں‘۔

جنوب مشرقی یورپی ملک اینڈورا میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے کہا کہ شمالی کوریا کا ’بحران ضرورت سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔‘

انہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

اس سے پہلے شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ینگ بیون کے جوہری پلانٹ پر کام بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق’یورینیم کی افزودگی سمیت ینگ بیون کے جوہری پلانٹ کی تمام سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں جو اکتوبر 2007 میں چھ رکنی مذاکرات کے تحت روک دی گئی تھیں‘۔

سرکاری ٹی وی نے سربراہِ مملکت کِم یان ان کا خطاب بھی نشر کیا۔ جمعہ کو ورکرز پارٹی کے کارکنوں سے اِس خطاب میں کِم یان اُن نے کہا کہ مضبوط جوہری صلاحیت ہی کے ذریعے امن اور خوشحالی آ سکتی ہے اور ہمارے لوگوں کو خوشیاں مل سکتی ہیں۔

شمالی کوریا کا ینگ بیون جوہری پلانٹ جوہری بموں کے لیے پلوٹونیم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جوہری پلانٹ کو دوبارہ چلانے سے بجلی کی قلت کے مسائل حل ہوں گے اور جوہری طاقت میں اضافہ ہو گا۔

اِس اعلان پر نہ صرف اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بلکہ جاپان، چین اور ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کی طرف سے بھی فوری ردعمل سامنے آیا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کی صدر نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

اجلاس کے بعد دفترِ خارجہ کی ترجمان نے یُو شینگ انگ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر نے شمالی کوریا کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے۔ جنوبی کوریا نے سفارتی اور فوجی حربے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شمالی کوریا اشتعال انگیزی کی طرف نہ بڑھ سکے۔

جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری یوشیہدی سُوگا نے کہا کہ’اگر شمالی کوریا نے جوہری پلانٹ دوبارہ شروع کیا تو یہ چھ ملکی مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور اُکسانے کی کوشش ہو گی۔ہمیں اِس صورتحال پر محتاط ردعمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا‘۔

خطے میں شمالی کوریا کے واحد حامی چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ہانگ لی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شمالی کوریا کو یاد دلایا کہ خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنا ضروری ہے اور مطالبہ کیا کہ تمام گلے شکوے مذاکرات کے ذریعے دور کیے جائیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول کے رہائشی بھی شمالی کوریا کے اعلان پر پریشان دکھائی دیے۔

کسی نے کہا کہ شمالی کوریا آئے دن ہمیں ڈراتا رہتا ہے تو کسی نے کہا کہ اُن کا ہمسایہ ملک ہر ایک کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے ینگ بیون کے جوہری پلانٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کا مطلب ہے کہ اسے جوہری طاقت بننے سے باز رکھنے کی تمام تر سفارتی کوششیں خاک میں ملک گئی ہیں۔ البتہ، جوہری پلانٹ کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے جو تکنیکی اقدامات چاہیئیں اُن میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں