برطانوی جوڑا اپنے چھ بچوں کو جلانے کا مجرم

Image caption مجرموں کو بدھ کو سزا سنائی جائے گی

برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک جوڑے کو اپنے چھ بچوں کو جلا کر ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

اس معاملے میں بچوں کے والدین کے ایک دوست کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

ناٹنگھم میں جیوری نے ڈربی شائر کے ایک جوڑے مک فلپاٹ اور میررڈ فلپاٹ اور ان کے ایک ساتھی پال موزلی کو چھ بچوں کے قتل کا مجرم ٹھہرایا۔

مجرم قرار پانے والے مک فلپاٹ اور میررڈ فلپاٹ نے گزشتہ برس خود اپنے گھر میں آگ لگائی جس میں ان کے چھ بچے جل گئے تھے۔

آٹھ گھنٹے سے کچھ کم وقت تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد ان تین ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا اور جج جسٹس تھرلول نے کہا کہ ان افراد کو بدھ کو سزا سنائی جائے گی۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ مائک فلپاٹ پرتشدد شخصیت کے مالک ہیں اور اسی وجہ سے ان کی سابق گرل فرینڈ بھی انہیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک جتنے بھی معاملات پر کام کیا ہے، یہ ان میں سب سے المناک ہے۔ ڈربي شائر کے اسسٹنٹ چیف كانسٹیبل سٹیو كٹرل کا کہنا ہے،’وہ چھ چھوٹے چھوٹے بچے تھے، جنہیں پلنے بڑھنے کا موقع دیا ہی نہیں گیا۔‘

آتشزدگی کے واقعے میں پانچ بچوں کی موت موقع پر ہی ہو گئی تھی جبکہ چھٹے بچے کی موت کے تین دن بعد ہسپتال میں ہوئی۔

یہ واقعہ 11 مئی 2012 کا ہے جب دس سالہ جے، نو سالہ جان، آٹھ سالہ جیک، چھ سالہ جیسی اور پانچ سالہ جیڈےن آتشزدگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

میررڈ فلپاٹ کے سابق شوہر سے ان کے 13 سالہ بیٹے نے واقعے کے تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑا تھا۔

جیسے ہی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تو میررڈ فلپاٹ فرش کی طرف دیکھتے ہوئے رونے لگیں اور لگا کہ وہ اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔