پاکستان سے تین فرانسیسی شہری بے دخل

Image caption فرانسیسی شہریوں کو ایران کےراستے پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیا تھا

پاکستان نے افغانستان میں نیٹو افواج سے لڑائی کے لیے جانے والے تین فرانسیسی شہریوں کو دس ماہ تک اپنی حراست میں رکھنے کے بعد ملک سے بے دخل کر دیا ہے اور اب وہ واپس فرانسیسی سرزمین پر پہنچ چکے ہیں۔

ایف آئی اے یعنی وفاقی تحققیاتی ادارے کے ایمگریشن میں تعینات ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار تین افراد کو لیکر اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشل ائرپورٹ پر آئے تھے لیکن اُن کی شہریت سے متعلق وہ کچھ نہیں بتا سکتے۔

اہلکار کے مطابق ان افراد کے بیرون ملک ڈی پورٹ کرنے سے متعلق ایمگریشن کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے اس واقعہ سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اُنہیں وزارت سنبھالے ہوئے چند روز ہوئے ہیں اس لیے اُنہیں اس پیشرفت سے متعلق علم نہیں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکام کے حوالے سے خبر دی ہے یہ تینوں فرانسیسی شہری افغانستان میں نیٹو افواج سے لڑنے کے لیے دس ماہ پہلے ایران سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

فرانسیسی تحقیق کاروں کے مطابق پاکستان کی پولیس نے 28 مئی 2012 میں ان تینوں فرانسیسی شہریوں کو گرفتار کیا تھا اور انہیں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افریقی نژاد فرانسیسی نامن میزیش کے ہمراہ حراست میں رکھا۔ نامن میزیش اب بھی پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے۔

مغربی سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق نامن میزیش القاعدہ کے ممبر ہیں اور وہ ان تینوں فرانسیسی شہریوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لے کر جا رہے تھے۔ انہیں گزشتہ سال جون میں پاکستان سے گرفتار کیا تھا۔

پاکستان اور فرانس نے نامن میزیش کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی لیکن ان تین شہریوں کی حراست کو پوشیدہ رکھا تھا۔

نامن میزیش کی حراست کی تصدیق کے وقت پاکستانی اہلکاروں کا خیال تھا کہ وہ شاید صومالیہ کی طرف روانہ تھا جب وہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھ آ گیا۔ البتہ مغربی سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ نامن میزیش پاکستان کے قبائلی علاقوں کی طرف جا رہا تھا۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد جنوری دو ہزار بارہ کو فرانس سے روانہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ مذہبی فریضہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب جا رہے ہیں لیکن پانچ ماہ بعد انہیں پاکستان میں حراست میں لے لیا گیا۔

فرانسں کے سفارتی ذرائع نے جمعرات کو تصدیق کی کہ پاکستان سے بے دخل ہونے والے تینوں شہری واپس فرانسیسی سرزمین پر پہنچ چکے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان شہریوں کے خلاف مقدمہ چلے گا یا نہیں۔

فرانس نے ان شہریوں کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد ایک ایسا قانون تیار کیا ہے جس کے تحت فرانسیسی شہریوں پر غیر ملکی سرزمین پر دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے کی ممانعت ہے۔

نامن میزیش ابھی پاکستان حکام کی تحویل میں ہی ہیں۔