اسرائيلی فوج کی فائرنگ، دو فلسطینی ہلاک

Image caption اسرائیلی فورسز پر پتھر کا جواب گولی سے دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں

غربِ اردن میں فلسطینیوں سے جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے دو نوجوان فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ تلکرام میں پیش آيا ہے جس کے بعد علاقے میں کشدیگی اور بڑھ گئی ہے۔

ایک نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق بدھ کو ہی ہوگئی تھی جبکہ دوسرے نوجوان کی لاش جمعرات کو برآمد ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی ایک حفاظتی چوکی پر فائر بم پھینکے جانے کے بعد فوجیوں نے فلسطینیوں پر فائرنگی کی تھی۔

فلسطین کے طبّی اور سیکورٹی اہل کاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے عامر نصر نامی نوجوان ہلاک ہوا تھا جس کی عمر سولہ برس بتائي گئی ہے۔

دوسرے نوجوان کا نام ناجی بلبیسی بتایا گيا ہے جن کی عمر سترہ برس کی تھی اور وہ عامر کے چچا زاد بھائي تھے۔

اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اینو کے مقام پر اس کی پوسٹ پر کئی فلسطینیوں نے حملہ کیا اس لیے فائرنگ کی گئی۔ اس کے بیان کے مطابق واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی جیل میں چونسٹھ سالہ ایک فلسطینی قیدی ابو حمدیہ کی منگل کے روز موت کے بعد سے مغربی کنارے میں حالات کشیدہ ہیں۔

اس کے خلاف منگل کو پورے علاقے میں عام ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے تھے اور تلکرام میں بدھ کے روز جھڑپیں ہوئیں۔

ابو حمدیہ کو کینسر کا مرض تھا اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ابو حمدیہ کو طبی سہولیات نہیں فراہم کیں اور مہلک بیماری کے باوجود انہیں نہیں رہا کیا۔ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

علاقے میں کشیدگي میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری یروشلم اور رام اللہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

اس دورے کا مقصد فریقین میں دو ہزار دس سے تعطل کا شکار امن مذاکرات کو بحال کرنا ہے۔

اسی بارے میں