’قحط کی پیش گوئی کا فائدہ نہیں اٹھایا جاتا‘

Image caption جلد خبردار کرنے والے نظام صومالیہ جیسے ملکوں میں بہت سی زندگیاں بچا سکتی ہیں

قحط کے خطرات سے آگاہ کرنے والے نظاموں کا غذا کی قلت کی پیش گوئی کرنے کا ریکارڈ اچھا ہے لیکن ملکوں کو جلد ردِ عمل پر آمادہ کرنے کے ضمن میں ان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں۔

یہ بات ایک تازہ مطالعاتی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتیں اور انسانی امداد کی تنظیمیں جلد ردِ عمل دکھانے کا موقع ضائع کر دیتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کی ایک مثال صومالیہ ہے جہاں 11 ماہ کے پیشگی انتباہ کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

صومالیہ میں 1970 میں خشک سالی کے بعد پیدا ہونے والے قحط میں تقریباً 20 لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ رپورٹ برطانوی تھنک ٹینک کیتھم ہاؤس نے تیار کی ہے اور اس میں خشک سالی سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اگرچہ رپورٹ عالمی سطح پر تیار کی گئی ہے لیکن اس میں زیادہ توجہ قرنِ افریقہ اور ساحل کے علاقے پر مرکوز کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مصنف راب بیلی نے وضاحت کی ’یہ علاقے اس لحاظ سے خاصے منفرد ہیں کہ ان میں قحط آتے رہتے ہیں، اور اکثر اوقات بارشیں وقت پر نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد فصلیں ناکام ہو جاتی ہیں اور لوگوں کو متبادل طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔

’وہ اپنے اثاثے فروخت کر دیتے ہیں، ان کی جمع شدہ خوراک ختم ہو جاتی ہے اور انھیں قرض لینا پڑتا ہے۔ نتیجتاً وہ مشکل سے مشکل تر صورتِ حال میں گرفتار ہوتے جاتے ہیں۔‘

بیلی کیتھم ہاؤس میں سینیئر تحقیق کار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ عرصے بعد یہ تمام متبادل ذرائع ختم ہو جاتے ہیں اور قحط شروع ہو جاتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’اس تمام عمل میں شروع سے آخر تک 11 ماہ لگ سکتے ہیں، اس لیے اس عمل میں جلد مداخلت کی جا سکتی ہے۔

’اس بہت اہم موقعے کے باوجود اور اس تجزیے کے باوجود جلد مداخلت نہیں کی جاتی جس میں دکھایا گیا ہے کہ جب آپ جلد مداخلت کرتے ہیں تو خرچ بھی کم آتا ہے اور زیادہ زندگیاں بچ سکتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دیر کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکومتوں کے خیال میں اس سے سیاسی خطرہ ہو سکتا ہے۔

Image caption عطیہ دہندگان کو خطرہ ہوتا ہے کہ امدادی سامان کہیں دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ نہ لگ جائے

’امریکہ اور برطانیہ کی طرح کے عطیہ دہندگان ملکوں کے لیے بحران کی شدت سے پہلے ہی چیک لکھنا خاصا مشکل ہے کیوں کہ حکومتیں بنیادی طور پر اندرونی سیاسی خطرات سے نمٹنے میں مصروف ہوتی ہیں۔

’چونکہ بجٹ میں گنجائش کم ہوتی ہے اور امداد کے لیے عوامی حمایت بھی پہلے کی نسبت کم ہے، اس لیے حکومتوں کو اس میں سیاسی خطرہ نظر آتا ہے۔‘

اگر عطیہ دہندہ ملک بحران کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روک دیں تو یہ اعتراض بھی کیا جاسکتا ہے کہ اصل میں کوئی بحران تھا ہی نہیں۔

بیلی نے 2011 میں صومالیہ میں آنے والے قحط کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس انسانی بحران کے ردِعمل کے خدوخال سیاسی خطرات نے متعین کیے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے سے خبردار کر دینے کے باوجود ’کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور غالباً اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ قحط سے خطرے سے دوچار علاقے جہادیوں کے کنٹرول میں تھے، اور امریکہ اور دوسرے عطیہ دہندگان ملک انھیں دہشت گرد سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں انسانی ہمدردی پر کی جانے والی کارروائیوں سے جہادی تنظیموں کو فائدہ ہو گا، خاص طور پر اس صورت میں کہ امدادی سامان ان تنظیموں کے ہتھے چڑھ جائے۔

پہلے سے خبردار کرنے والے نظام پہلی بار 1980 کے عشرے میں ساحل اور قرنِ افریقہ کے خطوں میں متعارف کروائے گئے تھے، اور اس وقت یہ محسوس کیا گیا تھا کہ ’قحط کے واقعات کی ترتیب‘ مرتب کی جا سکتی ہے۔

بیلی کہتے ہیں ’اس کے بعد سے ہم نے اس نظام کو زیادہ جدید بنا لیا ہے اور اب ہم مصنوعی سیارے کی مدد سے فصلوں اور چراگاہوں کا زیادہ موثر جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم موسم کی پیش گوئی کے جدید ترین ماڈل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’اس کے علاوہ زمینی ڈیٹا بھی حاصل کیا جاتا ہے، بچوں کا وزن کیا جاتا ہے اور خوراک کی کمی کا حساب رکھا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب بحران بھرپور شدت اختیار کر لے تو پھر اس پر قابو پانا بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے جلدی عمل کرنے کا مالی فائدہ بھی ہے۔

حال ہی میں کینیا اور جنوبی ایتھیوپیا میں ایک تحقیق کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ جلد مداخلت سے فی کس ایک ہزار ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

بیلی نے بتایا کہ اگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ گذشتہ برس ساحل کے علاقے میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے تو یہ اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے اچھی طرح سمجھا جا چکا ہے اور اس کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں مداخلت کر کے صورتِ حال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں