جنوبی کوریا:’میزائل شکن نظام سے لیس دو جہاز تعینات‘

Image caption ایک جنوبی کوریائی فوجی شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد پر کھڑا ہے

اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے مشرقی سرحد پر ایک میزائل منتقل کرنے کے بعد میزائل شکن دفاعی نظام سے لیس دو جنگی بحری جہازوں کو تعینات کیا ہے۔

فوجی حکام نے جنوبی کوریا کی میڈیا کو بتایا کہ ان جہازوں کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

سیول نے شمال کی طرف سے میزائل کی منتقلی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے یہ جارحانہ قدم کی بجائے کوئی تجربہ ہو۔

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے بیان بازی میں اضافہ کیا ہے اور امریکی سرزمین پر حملوں کی مخصوص دھمکیاں دی ہیں۔

پیانگ یانگ نے جن اہداف کا ذکر کیا ہے ان میں بحرالکاہل کا جزیرہ گوام شامل ہے، جس میں امریکی چھاؤنی واقع ہے۔

جمعرات کو امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ان دھمکیوں کے جواب میں گوام میں میزائل شکن دفاعی نظام نصب کرے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان خاتون وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ’ہمارے اقدامات کا مقصد امریکی عوام اور اتحادیوں کو یہ یقین دہانی کروانی ہے کہ ہم امریکہ کا دفاع کر سکتے ہیں۔‘

جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو قانون سازوں کو بتایا کہ شمال نے ایک میزائل مشرقی ساحل پر منتقل کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اس سے پہلے فوجی تجربات کیے جاتے رہے ہیں۔

جمعہ کو غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق شمال نے دو میزائل منتقل کر کے انھیں لانچروں پر نصب کر دیا۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ نے کہا ہے کہ اس اقدام کو کشیدگی میں اضافے کی ایک اور کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔

ان میزائلوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ درمیانے درجے تک مار کرنے والے موسوندانز نامی میزائل ہیں، جو گوام تک پہنچ سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یون ہاپ کا کہنا ہے کہ دونوں جنگی جہازوں میں ایجس نامی دفاعی نظام نصب ہیں جو صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔

یون ہاپ نے ایک عہدے دار کے حوالے سے کہا ’اگر شمال پہلے میزائل فائر کرتا ہے تو ہم اس کے خطِ پرواز کا مشاہدہ کریں گے۔‘

شمالی کوریا کے معاندانہ بیانات کے باوجود اس نے 2010 کے بعد سے اب تک کوئی براہِ راست فوجی کارروائی نہیں کی ہے جب اس نے جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کر ڈالا تھا۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں اس نے جنوبی کوریا اور امریکہ پر ایٹمی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

اس نے جنوبی کوریا کے خلاف جنگ کا باضابطہ اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود ایک بند ایٹمی ریکٹر کو دوبارہ کھول رہا ہے۔

شمالی کوریا اپنے حالیہ جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی ناراض ہے۔

بہت کم مبصرین سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے راکٹ اور چھوٹے ہتھیار موجود ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق شمالی کوریا بظاہر امریکہ پر باقاعدہ امن معاہدے کی امید میں جوہری معاملات پر بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں