عراق میں سیاسی جلسے پر حملے میں 22 ہلاک

Image caption بقوبہ بغداد سے ساٹھ کلومیٹر دور ہے اور دیالہ صوبے کا دارالحکومت ہے۔

عراق کے صوبے دیالہ کے دارالحکومت بقوبہ میں ایک سیاسی جلسے پر گرنیڈ اور خود کش حملے کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک جبکہ پچاس زخمی ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں پہلے جلسے کی جگہ پر ایک شامیانے پر گرنیڈ پھینکا گیا جس کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس قبل مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ لینے والے گیارہ امیدواروں کو قتل کیا جا چکا ہے مگر یہ سیاسی جلسوں پر پہلا براہِ راست حملہ ہے۔

سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دو صوبوں میں انتخابات ملتوی بھی کیے جا چکے ہیں۔

بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار رامی روہیام کے مطابق اس کے باوجود حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور اس کے نتیجے میں دوسرے کئی صوبوں میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر بھی اثر پڑا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق حزبِ اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابات کو اس لیے ملتوی کرنا چاہتی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ حکومت مخالف امیدوار کہیں انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر لیں۔

اس جلسے میں شامل سنّی امیدوار مثانہ الجرانی اپنے حامیوں سے بقوبہ کے علاقے میں مل رہے تھے جس کے نتیجے میں ان کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر ان کے کئی حامی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

چونتیس سالہ احمد حدلوج بھی اسی جلسے میں شریک تھے جن کے والد بھی ان کی طرح زخمی ہوئے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’یہ ہمارا عوام کی خاطر بہنے والا خون ہے اور ہم انتخابات میں حصہ ضرور لیں گے‘۔

بقوبہ دیالہ صوبے کا دارالحکومت ہے جو کہ عراق میں سب سے زیادہ پر تشدد علاقہ رہا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر عموماً اس نوعیت کے حملوں کے حوالے سے اشارہ القاعدہ ہی کی جانب کیا جاتا ہے۔

عراق میں تشدد کے واقعات دو ہزار چھ اور سات کی نسبت بہت کم ہو گئے ہیں مگر پھر بھی بم حملے عام ہیں۔

دو ہزار دس کے بعد یہ پہلی بار ہو گا عراق میں مقامی حکومتوں کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں