ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بے نتیجہ

Image caption عالمی طاقتوں نے ایران کو جوہری سرگرمیوں کے حساس حصوں کو بند کرنے کے عوض پابندیاں نرم کرنے کی پیشکش کی ہے

ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات بغیر کسی تصفیے کے ختم ہو گئے ہیں اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ فریقین کے موقف میں ’دوری برقرار ہے۔‘

قزاقستان کے شہر الماتی میں ہونے والے مذاکرات میں ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے عوض اپنی سب سے حساس ایٹمی کارروائیوں سے دست بردار ہو جائے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے اس بات کی تصدیق کی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

مغربی ممالک کہتے ہیں کہ ایران جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے جب کہ ایران اس الزام سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

الماتی میں ہونے والی بات چیت میں برطانیہ، فرانس، روس، امریکہ، چین اور جرمنی شامل تھے۔

سنیچر کو بات چیت کا آغاز ایران کے مذاکرت کار سعید جلیلی اور یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے درمیان ملاقات سے ہوا۔

تاہم ایشٹن نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اصل معاملے پر فریقین کے موقف میں خاصی دوری برقرار ہے۔‘

روس نے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے تصدیق کی کہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

انھوں نے روس کے خبررساں ادارے انٹرفیکس کو بتایا، ’بدقسمتی سے ہم کوئی پیش رفت نہ کر سکے اور اب بھی کنارے پر موجود ہیں۔‘

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے مذاکرات کے لیے فی الحال کوئی مقام یا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

جمعے کو ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی نے کہا تھا کہ عالمی برادری کو یورینیم کی افزودگی کے ایرانی حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔

جمعے کو سعید جلیلی نے کہا تھا، ’ہمارے خيال سے بات چیت ایک لفظ سے آگے بڑھ سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران کے حق کو تسلیم کیا جائے، خاص طور پر افزودگی کا حق۔ ہم پرامن جوہری توانائي کی بات کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ دنیا کے چند ملک ’دوسروں کو اس حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے قبل فروری میں الماتی میں ہی ہونے والی بات چيت میں عالمی طاقتوں نے ایران پر یورینیم کی افزودگي روکنے پر زور دیا تھا۔ عالمی برادری نے ایران سے افزودگی کے ایک زیرِ زمین مرکز کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس کے بدلے میں ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی پیش کش کی گئی تھی لیکن فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے اور وہ کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچ سکے۔

اسی بارے میں