مینڈیلا کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

Image caption نیلسن مینڈیلا کی صحت کئی سالوں سے تشویش کا باعث رہی ہے

جنوبی افریقہ کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیلسن مینڈیلا کو نمونیا کے علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے بتایا ہے کہ ’ان کی حالت میں مستقل اور بتدریح بہتری‘ آئی ہے۔

94 سالہ مینڈیلا کو 27 مارچ کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ایک نامعلوم ہسپتال میں ان کے پھیپھڑوں سے پانی نکالا گیا تھا۔

مینڈیلا 1994 سے 1999 تک جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہو چکے ہیں، اور بہت سے لوگ انھیں جدید جنوبی افریقہ کا بانی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے سفید فام حکومتی اقلیت کی جانب سے برتی جانے والی نسلی تعصب کی پالیسی کے خلاف جنگ لڑی، جس کے عوض انھیں 1993 میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ’سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی حالت میں مستقل اور بتدریح بہتری کی وجہ سے انھیں آج چھ اپریل کو ہسپتال سے خارج کر دیا گیا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا، ’سابق صدر کا اب گھر پر علاج کیا جائے گا۔ صدر (جیکب) زوما سخت محنت کرنے والی طبی ٹیم اور ہسپتال کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے مادیبا کا اتنی خوش اسلوبی سے علاج کیا۔‘

مادیبا مینڈیلا کا قبائلی نام ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا، ’صدر زوما تمام جنوبی افریقیوں اور دنیا بھر میں جنوبی افریقہ کے دوستوں کی طرف سے مدد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

نیلسن مینڈیلا کی صحت کئی سالوں سے تشویش کا باعث رہی ہے اور انہوں نے گذشتہ دسمبر میں بھی اسی بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں 18 دن گزارے تھے۔

نیلسن مینڈیلا نے 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

وہ روبین جزیرے میں قید کے دوران پہلی دفعہ دمہ کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے جہاں پتھر توڑنے کی مشقت کے دوران ان کے پھیپھڑوں میں تکلیف کا آغاز ہوا تھا۔

انھیں پہلی بار 2011 میں سینے میں تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا تھا، جب کہ رواں برس انہیں پیٹ کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔

اسی بارے میں