’کوریا میں جنگ کا زیادہ خطرہ نہیں‘

Image caption شمالی کوریا اپنے حالیہ جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی ناراض ہے

امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے دھمکی آمیز بیان بازی کے تناظر میں کہا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں جنگ کا زیادہ خطرہ نہیں ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اگر شمالی کوریا میزائل فائر کرتا ہے تو امریکہ کو ’حیرت نہیں ہوگی،‘ جب کہ امریکی فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ شمالی کوریا کی طرف سے دھمکیاں ایک خاص جانے پہچانے انداز کے مطابق ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جمعے کو کہا، ’ہمیں شمالی کوریا کو کارروائی کرتے ہوئے دیکھ کر حیرت نہیں ہوگی۔ ہم نے ان کو ماضی میں بھی میزائل فائر کرتے دیکھا ہے۔‘

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی طرف سے میزائل کی منتقلی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے یہ جارحانہ قدم کے بجائے کوئی میزائل تجربہ ہو۔

امریکہ کے جائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈمپسی نے شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی حملے کی دھمکی کو بڑی ’لاپروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دھمکیاں کئی دہائیوں سے دی جانے والی دھمکیوں کے اس انداز کے مطابق ہیں جس کے بعد شمالی کوریا دوسروں کا موقف مان جاتا ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس سے مجھے یقین ہو کہ یہ دھمکیاں مخلتف انداز میں ہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا، ’اگرچہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ شمالی کوریا ہمارے لیے کم شفاف رہا ہے لیکن آج کے مقابلے میں ہم ماضی میں ان کے رہنماؤں اور اہم شخصیات کو زیادہ سمجھتے تھے۔‘

اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے پیانگ یانگ میں موجود غیر ملکی سفارت کاروں کو بتایا تھا کہ وہ بحران کی وجہ سے ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

شمالی کوریا نے غیر ملکی سفارت کاروں سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کو ملک سے نکالنے کے بارے میں سوچیں۔

دوسری جانب روس اور برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں موجود اپنے ملازمین کو فوری طور پر نکالنے کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدام جنوبی کوریا اور امریکہ کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے مشرقی سرحد پر ایک میزائل منتقل کرنے کے بعد میزائل شکن دفاعی نظام سے لیس دو جنگی بحری جہازوں کو تعینات کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ملک کے مشرقی اور مغربی ساحلی علاقوں میں دو جنگی بحری جہازوں کو تعینات کیا جائے گا۔

حالیہ ہفتوں میں شمالی کوریا نے بیان بازی میں اضافہ کیا ہے اور امریکی سرزمین پر حملوں کی مخصوص دھمکیاں دیں ہیں۔

پیانگ یانگ نے جن اہداف کا ذکر کیا ہے ان میں بحرالکاہل کا جزیرہ گوام شامل ہے، جس میں امریکی چھاؤنی واقع ہے۔

جمعرات کو امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ان دھمکیوں کے جواب میں گوام میں میزائل شکن دفاعی نظام نصب کرے گا۔

جمعے کو غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق شمال نے دو میزائل منتقل کر کے انھیں لانچروں پر نصب کر دیا۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ نے کہا ہے کہ اس اقدام کو کشیدگی میں اضافے کی ایک اور کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔

ان میزائلوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ درمیانے درجے تک مار کرنے والے موسوندانز نامی میزائل ہیں، جو گوام تک پہنچ سکتے ہیں۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف جنگ کا باضابطہ اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود ایک بند ایٹمی ریکٹر کو دوبارہ کھول رہا ہے۔

شمالی کوریا اپنے حالیہ جوہری دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی ناراض ہے۔

بہت کم مبصرین سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس ایسے راکٹ اور چھوٹے ہتھیار موجود ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں