سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر انتقال کر گئیں

سابق برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر پیر کی صبح فالج کے حملے کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی عمر 87 برس تھی۔ وہ 1979 سے 1990 تک کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے برطانیہ کی وزیرِ اعظم رہیں۔ مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔

ان کے ترجمان لارڈ بیل نے کہا ’مارک اور کیرل تھیچر نے بہت افسوس کے ساتھ بتایا ہے کہ اُن کی والدہ مارگریٹ تھیچر آج صبح انتقال کر گئیں ہیں۔‘

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس موقعے پر مارگریٹ تھیچر کوایک ’عظیم برطانوی‘ قرار دیا اور ملکہِ برطانیہ نے اُن کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔

ڈیوڈ کیمرون اس وقت پیرس کے دورے پر ہیں، جو وہ مختصر کر کے برطانیہ واپس لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ’مارگریٹ تھیچر نے نہ صرف ہمارے ملک کی رہنمائی کی بلکہ انہوں نے ہمارے ملک کو بچایا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’مجھے یقین ہے کہ تاریخ میں انہیں دورِ امن میں برطانیہ کی عظیم ترین وزیراعظم کے طور پر یاد کیا جائے گا۔‘

وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ہونے والی بیان میں کہا گیا ہے کہ مارگریٹ تھیچر کی آخری رسومات اُن کی خواہشات کے مطابق سرکاری طور پر تو نہیں منعقد کیں جائیں گی تاہم مرتبے کے اعتبار سے یہ ’کوئین مدر‘ یا شہزادی ڈائینا کے برابر ہوگا۔ مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ اُن کی آخری رسومات کا انعقاد لندن کے سینٹ پالز کتھیڈرل میں کیا جائے گا۔

مارگریٹ تھیچر کی شخصیت کا ایک انتہائی دلچسپ اور معروف پہلو یہ تھا کہ وہ ایک سخت مزاج سیاستدان تھیں۔ ’آئیرن لیڈی‘ کے نام سے پہچانی جانے والی وزیرِاعظم تھیچر نے اپنی سیاسی سفر میں کئی بار مختلف وجوہات سے شدید دباؤ کا سامنا کیا مگر کم ہی انھوں نے اپنا موقف تبدیل کیا۔

بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا کہ’مارگریٹ تھیچر کی موت کی خبر سن کر ملکۂ برطانیہ اداس ہوئیں اور وہ ان کے خاندان کو ذاتی پیغام بھیجیں گی۔‘

سر جان میجر نے جو مارگریٹ تھیچر کے بعد ملک کے وزیراعظم بنے کہا کہ’ان کی اقتصادی اور مزدور تنظیموں کے قوانین میں اصلاحات اور فالک لینڈ جزیروں کو واپس لینے جیسے اقدامات کی وجہ سے انہیں ایک اعلیٰ پائے کے سیاستدان کا درجہ حاصل ہوا۔ یہ ایسی کامیابیاں تھیں جو شاید کوئی اور رہنما حاصل نہ کر سکتا۔‘

مارگریٹ تھیچر کو بیسویں صدی کی اہم ترین سیاسی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1979، 1983، اور 1987 کے عام انتخابات جیتے تھے۔

وہ 1959 میں کنزرویٹیو پارٹی کی طرف سے شمالی لندن سے پارلیمان کے لیے منتخب ہوئیں۔ اس کے بعد وہ سیکرٹری تعلیم بھی رہیں اور 1975 میں انہوں نے سابق وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ کی قیادت کو کامیابی سے چیلنج کیا۔

مارگریٹ تھیچر 1992 میں برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں ریٹائر ہوئیں۔

ان کی سیاست کا ان کے بعد آنے والے کنزرویٹیو اور لیبر پارٹی کے رہنماؤں کی پالیسیوں پر گہرا اثر رہا۔

مارگریٹ تھیچر کے دور میں بہت سے عام ووٹروں نے کونسل کے گھر خرید لیے اور نجی شعبے میں دیے گئے برٹش گیس اور بی ٹی جیسے سرکاری اداروں میں حصہ دار بنے۔

تاہم ان کی مفاہمت نہ کرنے کے رجحان نے انہیں متنازعہ شخصیت بنا دیا تھا۔ ان کے طرزِ حکومت اور پالیسیوں کی وجہ سے آخر کار کنزرویٹیو پارٹی کے اندر بغاوت ہوئی اور سڑکوں پر احتجاج کیا گیا۔

مارگریٹ ہیلدا تھیچر تیرہ اکتوبر 1925 کو گرانتھم، لنکاشائر میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام الفرڈ رابرٹس تھا جو سبزی فروش تھے اور ان کی والدہ کا نام بیٹریس تھا۔

مارگریٹ تھیچر کے والد ایک جزوقتی مبلغ اور مقامی کونسلر بھی تھے اور ان کا مارگریٹ تھیچر کی زندگی اور ان کی پالیسیوں پر گہرا اثر تھا۔

مارگریٹ تھیچر نے بعد میں کہا تھا کہ’میں جو کچھ بھی ہوں اپنے والد کی وجہ سے ہوں۔ انہوں نے میری ایسی تربیت کی کہ میں ہر اس چیز پر یقین کروں جس پر میں یقین کرتی ہوں۔‘

انہوں نے آکسفورڈ یونورسٹی سے نیچرل سائنس میں تعلیم حاصل کی، اور کولچسٹر میں پلاسٹک کی کمپنی میں نوکری کی جہاں وہ مقامی سطح پر کنزرویٹیو پارٹی کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے لگیں۔

وہ 1959 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ پارلیمان کی رکن بنیں۔ اس سے پہلے وہ دو دفعہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہیں جبکہ وہ پہلی دفعہ 1979 میں برطانیہ کی وزیراعظم بنیں۔

مارگریٹ تھیچر کے سیاسی ورثے میں ان کی اقتصادی پالیسی شاید اہم ترین ہے۔ ان کی پالیسیوں کے تحت برطانیہ میں نجکاری کے عمل میں تیزی آئی۔ امریکی صدر رانلڈ ریگن کی طرح مارگریٹ تھیچر نے بھی اپنے ملک میں ’فری مارکیٹ اکانومی‘ کی ترقی کے لیے کام کیا۔

ان کے دور میں مزدور یونین تنظیموں کے اثر کو کم کرنے اور سرکاری صنعتوں کی نجکاری کے لیے قوانین متعارف کرائے گئے اور کونسل کے گھروں میں رہنے والوں کو وہی گھر خریدنے کی اجازت دی گئی۔

انھوں نے معیشت میں حکومتی کردار اور اخراجات میں کمی کی، افراتِ زر میں کمی کے لیے مانٹری پالیسی کا سہارا لیا۔ان کی پالیسیوں کے باعث برطانیہ کو فوری طور پر تو مشکلات کا سامنا ہوا اور بے روز گاری کی شرح بہت بڑھ گئی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انہی پالیسیوں کی وجہ سے برطانوی معیشت میں کافی دیر پا ترقی ہوئی۔

اسی بارے میں