’جزیرہ نما کوریا کی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے‘

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان گی مون نے خبردار کیا ہے کہ معمولی سی غلطی سےجزیرہ نما کوریا کی صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

بان گی مون نے ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا کو کہا ہے کہ اشتعال انگیز بیان بازی سےگریز کرے اور شمالی اور جنوبی کوریا کے مشترکہ صنعتی علاقے کو دوبارہ کھولے۔

شمالی کوریا نے منگل کے روز جنوبی کوریا میں غیر ملکی کمپنیوں، تنظیموں اور سیاحوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

روم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہ ایک چھوٹی سی غلطی، غلط اندازہ ایسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے جو شاید پھر کسی کے قابو میں نہ رہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا میں موجود غیر ملکیوں کے نام پیغام میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلح تصادم کے نتیجے میں ان کو کوئی نقصان پہنچے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل شمالی کوریا نے ملک میں قائم سفارتخانوں کو بھی تنبیہہ کی تھی کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو شمالی کوریا ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

دوسری جانب جاپان نے کہا ہے کہ اس نے ٹوکیو میں میزائل مار گرانے والا نظام نصب کردیا ہے۔

جاپان کا کہنا ہے کہ یہ قدم شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کے پیش نظر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل شمالی کوریا کا کارکن ایک مشترکہ صنعتی زون میں کام کرنے کے لیے نہیں آئے۔

اس کمپلیکس میں جنوبی افریقہ کی مختلف کمپنیوں نے پچاس ہزار شمالی کوریا کے کارکن نوکری پر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے کارکنوں کو مشترکہ صنعتی زون میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس فیصلے کو دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید خرابی کی نشانی قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں