مارگریٹ تھیچر کی تدفین آئندہ ہفتے کی جائےگی

Image caption مارگریٹ تھیچر 87 برس کی عمر میں پیر کی صبح فالج کے حملے کے بعد انتقال کر گئی تھیں

برطانوی حکومت کے اعلان کے مطابق سابق وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لندن کے سینٹ پالز کتھیڈرل میں آئندہ ہفتے سترہ اپریل کو ادا کی جائے گی۔

سابق وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر 87 برس کی عمر میں پیر کی صبح فالج کے حملے کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔

ادھر مارگریٹ تھیچر کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مارگریٹ تھیچر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’عظیم برطانوی‘ تھیں۔

انہوں نے کہا مارگریٹ تھیچر نے نہ صرف ہمارے ملک کی رہنمائی کی بلکہ ہمارے ملک کو بچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ’مجھے یقین ہے کہ تاریخ میں انہیں دورِ امن میں برطانیہ کی عظیم ترین وزیراعظم کے طور پر یاد کیا جائے گا‘۔

امریکی صدر باراک اوباما نے انہیں ’آزادی اور خودمختاری کی چیمپئین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک ’مخلص دوست‘ سے محروم ہو گیا۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ وہ سرد جنگ کے خاتمے پر یورپ کو تقسیم سے بچانے کے لیے مارگریٹ تھیچر سے کردار کو کبھی بھلا نہیں پائیں گی۔

برطانیہ کے سابق وزرائے اعظم جان میجر، ٹوٹی بلئیر اور گورڈن براؤن نے بھی مارگریٹ تھیچر کے کردار کی مضبوطی کی تعریف کی جبکہ لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے مارگریٹ تھیچر کو ایک ’بے مثال رہنما‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ مارگریٹ تھیچر 1979 سے 1990 تک کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے برطانیہ کی وزیرِ اعظم رہیں۔ وہ برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔

مارگریٹ تھیچر کی تدفین سرکاری نہیں ہو گی تاہم ان کی تدفین کو وہی درجہ دیا جائے گا جو لیڈی ڈیانا اور برطانیہ کی ملکہ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم کے انتقال کے بعد برطانیہ کا قومی پرچم ’یونین جیک‘ سرنگوں کر دیا گیا ہے جبکہ برطانوی پارلیمان کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہے تاکہ انہیں ارکانِ پارلیمان انہیں خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

اسی بارے میں