’دنیا میں سزائے موت کے رجحان میں کمی‘

Image caption بھارت میں آٹھ برس کے وقفے کے بعد کسی مجرم کو پھانسی دی گئی

حقوقِ انسانی کے عالمی ادارے ایمنٹسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے رجحان میں عموماً کمی دیکھی گئی ہے لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ایک طویل عرصے کے بعد 2012 میں دوبارہ لوگوں کو موت کی سزا دی گئی ہے۔

سزائے موت کے بارے میں اپنے سالانہ جائزے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کل اکیس ممالک میں کم از کم 682 افراد کو موت کی سزا دی گئی جبکہ 2011 میں اکیس ہی ممالک ایسے واقعات کی تعداد 680 تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق دو ہزار بارہ میں دنیا کے 58 ممالک سے 1722 افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے واقعات سامنے آئے جبکہ 2011 میں 63 ممالک میں 1923 افراد کو یہ سزا دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

تاہم ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ ان اعداوشمار میں چین میں دی جانے والی وہ ہزاروں موت کی سزائیں شامل نہیں جن کی تفصیل تنظیم کے بقول خفیہ رکھی جاتی ہے۔

تنظیم کے مطابق پاکستان، بھارت، جاپان اور گیمبیا وہ ممالک ہیں جہاں کافی وقفے کے بعد گزشتہ برس سزائے موت دینے کا سلسلے دوبارہ شروع ہوا جبکہ عراق میں موت کی سزا دینے کے واقعات میں ’خطرناک حد تک تیزی آئی‘۔

پاکستان میں چار برس کے وقفے کے بعد نومبر 2012 میں میانوالی کی جیل میں قید ایک سابق فوجی کو اپنے ساتھی فوجی کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ بھارت نے 2004 کے بعد پہلی مرتبہ 2012 میں کسی مجرم کو پھانسی دی اور یہ سزا پانے والا شخص 2008 میں ممبئی میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کا اہم کردار اجمل قصاب تھا۔

اجمل قصاب کے بعد پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کا مرکزی کردار قرار دیے جانے والے کشمیری افضل گرو کو بھی رواں برس فروری میں پھانسی دی گئی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق 2012 میں عراق میں کم از کم 129 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ 2011 میں یہ تعداد 68 تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے کہا ہے کہ ان چند ممالک میں سزائے موت پر عملدرآمد کے واقعات کے برعکس دنیا کے ہر خطے میں اس سزا کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مثبت ردعمل ہی سامنے آیا۔

ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی کا کہنا ہے کہ ’چند ممالک میں موت کی سزا دینے کا رجحان قابلِ افسوس رہا لیکن اس سے دنیا میں اس سزا کے خلاف رجحان تبدیل نہیں ہوا اور دنیا کے متعدد حصوں میں یہ سزا قصۂ پارنیہ بنتی جا رہی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اب ہر دس میں سے صرف ایک ملک میں سزائے موت دی جا رہی ہے اور ان ممالک کے رہنماؤں کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ اب جبکہ دنیا اسے ترک کر رہی ہے وہ کیوں اس ظالمانہ اور غیرانسانی سزا پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق 2012 میں چین میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئیں جبکہ ایران، عراق، سعودی عرب اور امریکہ اس فہرست میں بالترتیب دوسرے، تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ جن طریقوں سے یہ سزا دی گئی ان میں پھانسی، سر قلم کیا جانا، فائرنگ سکواڈ کا نشانہ بنایا جانا اور مہلک انجکشن کے ذریعے موت شامل ہیں۔

تنظیم نے رپورٹ میں کہا ہے کہ چین میں اس سال بھی دنیا کے باقی ممالک میں یہ سزا پانے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی گئی تاہم وہاں سزائے موت کے عمل کے خفیہ رکھے جانے کی وجہ سے صحیح اعدادوشمار کا حصول ممکن نہیں تھا۔

جاپان میں جہاں مارچ 2012 میں تین افراد کو موت کی سزا کے دی گئی وہیں مزید چار سال کے وسط اور آخر میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اور یوں ملک میں بیس ماہ سے سزائے موت نہ دیے جانے کا سلسلہ ختم ہوا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ، براعظم شمالی و جنوبی امریکہ میں سزائے موت دینے والا واحد ملک رہا جہاں 2012 میں نو ریاستوں میں 43 افراد کو یہ سزا دی گئی۔ یہ تعداد 2011 کے برابر ہی ہے تاہم اس سال یہ سزائیں 13 ریاستوں میں دی گئی تھیں۔

عراق کا ذکر کرتے ہوئے تنظیم نے کہا ہے کہ وہاں سزائے موت دیے جانے کا عمل زور و شور سے جاری ہے اور جہاں 2012 میں 129 افراد ہلاک کیے گئے وہیں 2013 میں اب تک یہ تعداد 29 ہو چکی ہے۔

ملک کے وزیرِ انصاف حسن الشماری کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا ملک سزا پر پابندی کے عالمی مطالبوں کے باوجود سزائے موت دیتا رہےگا۔

اسی بارے میں