’کیمیائی ہتھیاروں کی وسیع تحقیقات کے حامی نہیں‘

Image caption خان العصل پر انیس مارچ کو زہریلی گیس کے راکٹ داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھے

شام کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کی ٹیم کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دے گا۔

شام نے اقوامِ متحدہ سے ایک ایسے مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے کہا تھا جس کا الزام وہ باغیوں پر عائد کرتا ہے تاہم اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازع کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے تمام واقعات کی چھان بین کی جانی چاہیے۔

شامی حکومت نے اقوامِ متحدہ سے حلب میں خان العسل نامی گاؤں میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

شام کی حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ انیس مارچ کو گاؤں پر زہریلی گیس پر مشتمل راکٹ داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کی ایک ٹیم قبرص میں موجود ہے اور شام میں داخلے کی اجازت کی منتظر ہے۔

تاہم اب شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے ’مزید ذمہ داریوں‘ کا مطالبہ کیا ہے جن میں تفتیش کاروں کو پورے ملک میں پھیل جانے کی اجازت بھی شامل ہے جو کہ بقول شامی وزارتِ خارجہ ملک کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ بان گی مون ’ان ریاستوں کے دباؤ کے سامنے جھک گئے جو شامی خون بہانے والوں کی حمایت کے لیے مشہور ہیں۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’شام اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ جنرل کے اقدامات قبول نہیں کر سکتا جبکہ عراق میں ان کے منفی کردار کا سچ سب کے سامنے ہے۔‘

ہیگ میں خطاب کرتے ہوئے بان گی مون نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ’تمام سنجیدہ دعوؤں کی بلاتاخیر، غیر مشروط اور بلاتمیز تحقیقات ہونی چاہیئیں۔‘

خیال رہے کہ شام ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور اندازوں کے مطابق اس کے پاس زرد زہریلی گیس اور اعصاب شکن مواد سرین موجود ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تحریک کے دو برسوں میں کم از کم 70 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں