’شمالی کوریا کا میزائل تجربہ بہت بڑی غلطی ہوگی‘

Image caption جان کیری نے سیول میں حکام سے بات چيت کی ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ ’اشتعال انگیز‘ قدم ہو گا اور ’بہت بڑی غلطی‘ ہو گی۔

جان کیری نے ایک بار پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حفاظت کرنے کا عزم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی طاقت کے طور پر شمالی کوریا کو منظور نہیں کیا جائے گا اور انہوں نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوریا کے بحران میں اپنا کردار ادا کرے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جان کیری نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ کوریا نما جزیرے میں پہلے ہی سے خطرناک صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔

جان کیری نے کہا کہ چین کا شمالی کوریا پر بہت اثرو رسوخ ہے اور چین کو چاہیے کہ وہ شمالی کوریا پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے پاس ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیار میزائل سے داغنے کی صلاحیت آگئی ہو۔

تاہم جان کیری اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس رپورٹ کو اہمیت نہیں دی۔

اس سے قبل جان کیری جنوبی کوریا کی صدر پارک گیوئن ہائی، وزیر خارجہ اور ملک میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے بات چيت کی۔

سیول پہنچنے پر انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’رواں سال تیسرا جوہری دھماکہ کرنے کے باوجود شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘۔

امریکی وزیر خارجہ کے بقول شمالی کوریا کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور ضرورت پڑنے پر امریکہ اپنے حلیف ممالک کا دفاع بھی کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے جب امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی نے یہ خبر دی ہے کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار سے لیس میزائیل داغنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہو جس کے ذریعے میزائل جوہری ہتھیار سے لیس کیے جا سکیں۔

جان کیری کے وزارت خارجہ کا عہدہ سنھالنے کے بعد سے اس علاقے کا ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ سنیچر کے روز وہ چین کے دارالحکومت بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ اتوار کو ٹوکیو جائیں گے۔

خطے کا وہ ایک ایسے وقت دورہ کر رہے ہیں جب شمالی کوریا ایک طویل مسافت کے میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے۔ جان کیری کے اس دورہ کی تیاری ہفتوں پہلے سے کی جا رہی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جان کیری چین سے گہیں کے کہ خطے میں کشیدگي کم کرنے کے لیے وہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالے اور اس کے لیے اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرے۔

امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے دورانِ پرواز صحافیوں کو بتایا تھا ’یہ بات کوئی راز نہیں کہ شمالی کوریا پر چین کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس اثر و رسوخ کو استعمال کرے کیونکہ بصورتِ دیگر یہ صورتحال پورے خطے کے لیے خطرناک ہے اور عدم استحکام کا باعث بنےگی۔‘

اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ چین شمالی کوریا سے بات چیت میں اس معاملے کو بگڑنے سے بچانے میں ذرا جلدی کرے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے ایک بار پھر شمالی کوریا سے کہا کہ وہ جھگڑالو اور جارحانہ روش ترک کر دے اور یہ کہ ان کا ملک اپنے عوام اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون سے بات چیت کے بعد براک اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی جزیرہ نما کوریا میں تنازع نہیں چاہتا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ شمالی کوریا اپنی جھگڑالو روش ترک کر دے تاکہ کشیدگی میں کمی آ سکے۔ جزیرہ نما کوریا میں کوئی بھی تصادم نہیں چاہتا لیکن شمالی کوریا کے لیےضروری ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پہلے سے طے شدہ بنیادی قوانین اور قواعد اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔‘

شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام کی وجہ سے عائد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ردعمل میں حالیہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔

اس نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی ہاٹ لائن بند کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا جوہری ری ایکٹر دوبارہ چلائے گا اور یہ کہ وہ شمالی کوریا میں موجود عالمی سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا اس لیے وہ ملک چھوڑ دیں۔

اسی بارے میں