’صومالی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں‘

Image caption بین الاقوامی خیراتی اداروں نے صومالیہ میں صدر حسن شیخ محمد کا ایک سال پہلے منتخب ہونے کے بعد صومالی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا شروع کر دیے ہیں

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بائیس سال تک تعلقات میں کشیدگی کے بعد صومالیہ کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔

اس اقدام کے بعد آئی ایم ایف افریقہ کے اس غریب ملک کی تکنیکی امداد اور پالیسی معملات میں مشورے دے سکے گا۔

آئی ایم ایف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’آئی ایم ایف صدر حسن شیخ محمد کی سربراہی میں صومالیہ کی وفاقی حکومت کو تسلیم کرتا ہے جس سے بائیس سال کے وقفے کے بعد ان کے تعلقات بحال ہو جائیں گے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ’یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر صومالیہ کو تسلیم کرنے اور اس کی امداد کرنے کے مطابق ہے۔‘

تاہم آئی ایف ایف صومالیہ کو اس وقت تک قرضہ نہیں دے سکے گا جب تک وہ اپنے 352 ملین امریکی ڈالر کا پرانا قرضہ واپس نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ تقریباً دہ دہائیوں تک جاری خانہ جنگی کے بعد صومالیہ دوبارہ بحالی کی طرف گامزن ہے۔

صومالیہ اگست 1962 سے آئی ایم ایف کا ممبر ہے لیکن زمانۂ خانہ جنگی میں وہاں پر کوئی حکومت ایسی نہیں تھی جن کے ساتھ تعلقات استوار رکھے جاسکتے ہوں۔

بین الاقوامی خیراتی اداروں نے صومالیہ میں صدر حسن شیخ محمد کا ایک سال پہلے منتخب ہونے کے بعد صومالی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

امریکہ نے سرکاری طور پر صومالیہ کو جنوری میں تسلیم کر لیا ہے اور صومالی حکومت کی طرف سے سیاسی استحکام قائم کرنے اور اسلامی شدت پسند تنظیم الا شہاب کی عسکری کارروائیوں کو روکنے کو بھی سراہا ہے۔

اگرچہ امریکہ نے باقاعدہ طور پر صومالیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کبھی ختم نہیں کیے لیکن 1993 میں عسکریت پسندوں کی طرف سے دو ہیلی کاپٹروں کو گرانے کے جس میں اٹھارہ امریکی فوج ہلاک ہوئے تھے واقعے سے ملک میں بدانتظامی کا آغاز ہوا۔

اسی بارے میں