’کشتی ڈوبنے سے درجنوں غیرقانونی تارکینِ وطن ہلاک‘

Image caption ان تارکینِ وطن میں ایک نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈوبنے والی کشتی پر 72 افراد سوار تھے

انڈونیشیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مغربی جاوا کےقریب سمندر میں کشتی ڈوبنے سے درجنوں غیرقانونی تارکینِ وطن ہلاک ہوگئے ہیں۔

کشتی ڈوبنے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب انڈونیشیائی ماہی گیروں نے سمندر سے چودہ افغان پناہ گزینوں کو بچایا۔

ان تارکینِ وطن میں ایک نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈوبنے والی کشتی پر 72 افراد سوار تھے اور ان کی منزل آسٹریلوی جزیرہ کرسمس آئی لینڈ تھا۔

انڈونیشیائی حکام نے اس سلسلے میں آسٹریلیا کے بحری تحفظ کے حکام کو مطلع کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے مسافروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع ہوا ہے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انڈونیشیا کے 18000 جزیرے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا جانے والوں کے لیے اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ اکیس جون 2012 کو بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں پناہ کے خواہشمند پاکستانیوں سمیت کئی قومیتوں کے افراد سوار تھے اور اس حادثے میں سترہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی تھیں۔

اس وقت آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر ملک عبداللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان سے تھا۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ہمارے کئی ایسے پاکستانی بھائی ہیں جنہوں نے سیاسی پناہ کے لیے اپنے آپ کو افغان شہری ظاہر کیا ہوا تھا۔‘

پشاور میں ان متاثرہ خاندانوں کے ترجمان شاہد کاظمی نے کہا تھا کہ اس کشتی میں جو دو سو چھ غیر قانونی تارکین وطن سوار تھے ان میں سے ایک سو پچیس کا تعلق کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار اور متعدد کا تعلق بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے بتایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ تقریباً دو سال قبل بھی بحر ہند میں کشتی الٹنے سے پچاس کے قریب پاکستانی ہلاک ہوگئے تھے۔ مرنے والے ان پاکستانیوں میں بھی اکثریت کا تعلق کرم ایجنسی سے تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ آسٹریلیا میں پناہ لینے کے قوانین میں نرمی کی وجہ سے کچھ عرصہ سے پاکستان سے تارکین وطن بھی بڑی تعداد میں وہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق ہزارہ اور اہل تشیع کمیونٹی سے بتایا گیا ہے۔

اسی بارے میں