فلسطینی وزیرِ اعظم مستعفی

Image caption سلام فیاض 2007 میں وزیرِ اعظم بنے تھے

فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِاعظم سلام فیاض اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، اور فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

سرکاری فلسطینی خبررساں ادارے وافا کے مطابق صدر محمود عباس نے سلام فیاض سے کہا ہے کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل تک نگران وزیرِاعظم کے طور پر کام کریں۔

توقع ہے کہ صدر عباس آئندہ چند روز میں نئے وزیرِاعظم کا اعلان کر دیں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سلام فیاض کا استعفیٰ ان کے اور صدر کے درمیان طویل عرصے سے جاری تلخ تنازعے کا نقطۂ عروج ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے دونوں میں مصالحت کروانے کی کوشش کی تھی لیکن بے سود۔

گذشتہ ماہ وزیرِ خزانہ نبیل قسیس کے استعفے کے بعد دونوں کے درمیان جاری رسہ کشی میں شدت پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے افواہوں کا بازار گرم تھا کہ فیاض بھی مستعفی ہو جائیں گے۔

سلام فیاض نے قسیس کا استعفیٰ قبول کر لیا تھا لیکن صدر عباس نے اسے رد کر دیا جس سے وزیرِ اعظم کی اپنی کابینہ کے ارکان کو رکھنے یا نکالنے کے اختیار پر زک پڑی۔

اطلاعات کے مطابق صدر عباس نے سلام فیاض کا استعفیٰ قبول کرنے سے پہلے کئی دن تک انتظار کیا۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیویز کہتے ہیں کہ سلام فیاض کو اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی امریکی کوششوں کے ضمن میں کلیدی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ صدر عباس کو ان کا ایسا جانشین تلاش کرنے میں مشکل پیش آئے گی جو سلام فیاض جیسی بین الاقوامی ساکھ کا حامل ہو۔

61 سالہ فیاض 2007 سے فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِ اعظم تھے۔ انھیں لبرل اور سیاسی طور پر خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

وہ عالمی مالیاتی ادارے سے وابستہ رہ چکے ہیں، اور بین الاقوامی اداروں اور عطیہ دہندگان میں ان کی بڑی ساکھ ہے۔

اسی بارے میں