بی بی سی نے طالب علموں کو خطرے میں ڈالا: ایل ایس ای

Image caption یونیورسٹی کے مطابق شمالی کوریا کے دورے میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے دو اور افراد بھی موجود تھے

برطانیہ کے لندن سکول آف اکنامکس نے بی بی سی سے پیر کو شمالی کوریا کے بارے میں پینوراما پروگرام نہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لندن سکول آف اکنامکس(ایل ایس ای) کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے رپورٹر جان سوینی جو کہ پی ایچ ڈی کے طالب علم کا روپ دھار کر یونیورسٹی کے سوسائٹی کے ساتھ گئے تھے انہوں نے دورے سے پہلے اپنے کام کے بارے میں طلبا کو مکمل معلومات نہیں دی تھیں۔ اس وجہ سے انہوں نے طالب علموں کی خطرے میں ڈالا۔

دوسری طرف بی بی سی کا کہنا ہے کہ طلبا کو ان کے گروپ میں ایک صحافی کی موجودگی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ لیکن ایل ایس ای کا کہنا ہے کہ انہیں’اس حوالے سے معلومات کی بنیاد پر رضامندی ظاہر کرنے کے لیے مکمل معلومات نہیں دی گئیں تھیں‘ اور انہیں ’خطرے میں ڈالا گیا‘۔

یونیورسٹی کی طرف سے طلبا اور سٹاف کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے دورے میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے دو اور افراد بھی موجود تھے۔

ای میل کے مطابق’دورے سے پہلے کسی بھی موقع پر طلبا کو یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ تین افراد پر مشتمل بی بی سی کی ٹیم اس دورے کو ڈاکومینٹری بنانے کے لیے کور(cover) کے طور پر استعمال کرے گی اور یہ ڈاکومینٹری پینوراما پر دکھائی جائے گی۔‘

ایل ایس سی کا موقف ہے کہ اگر شمالی کوریا سے نکلنے سے پہلے اس کا پتہ چل جاتا تو طلبا کو شدید خطرہ ہو سکتا تھا۔

ایل ای ای کا کہنا ہے کہ ’بی بی سی کے اقدامات کی وجہ سے شاید ایل ایس ای کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہو اور اس وجہ سے ایل ایس ای کے طلبا مستقبل میں شمالی کوریا اور ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کے جہاں آذاد تحقیقاتی کام پر شک کیا جاتا ہو قانونی طور پر جائز مطالعے سے محروم ہو جائیں۔‘

ان کے ای میل میں کہا گیا ہے کہ’ایل ایس سی عوام کی مفاد میں تحقیقاتی صحافت کی تائید کرتی ہے لیکن تاہم ہم اس کام کے لیے اپنے نام اور طلبا کو کور(cover) کے طور پر استعمال کرنے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

ایل ایس ای نے کہا کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل لارڈ ہال نے ان کی جانب سے پروگرام کو نہ چلانے اور ’بی بی سی کے سٹاف کا ایل ایس ای کی اچھی شہرت کودھوکہ دہی کے لیے استعمال کرنے کے عمل پر مکمل معافی مانگنے‘ کی درخواست کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

بی بی سی کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چونکہ اس عمل سے دورے میں خطرات بڑھ سکتے تھے اس لیے طلبا کو ان کے گروپ میں صحافی کے ہونے کے بارے میں پہلے سے بتا دینا چاہیے تھا تاکہ وہ اس بارے میں اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کرتے ۔‘

Image caption ’ایل ایس سی عوام کی مفاد میں تحقیقاتی صحافت کی تائید کرتی ہے تاہم ہم اس کام کے لیے اپنے نام اور طلبا کو کور(cover) کے طور پر استعمال کرنے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

بیان کے مطابق طلبا کو صحافی کے متعلق معلومات دی گئیں تھیں اور ’انہیں اس بارے میں دوبارہ یاد دلایا گیا کہ اگر وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرنا چاہیں۔اور ان کے گروپ میں صحافی ہونے سے شمالی کوریا کے دورے میں ممکنہ خطرات کے بارے میں انہیں واضح طور پر بتایا گیا۔‘

بی بی سی کے مطابق طلبا کو خبردار کیا گیا کہ ’اس میں انہیں گرفتار کرنے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں شمالی کوریا کا دوبارہ دورہ کرنے کی اجازت نہ ملنے کے خطرات شامل ہیں۔‘

جان سوینی نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ’ہم ایل ایس ای کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے‘ اور وہ طلبا کے یونین کو مطمئن کرنے کے لیے شمالی کوریا اور دورے کے بارے میں وضاحت دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایل ایس ای کے ڈائریکٹر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ’ بی بی سی کی خبر نے ایل ایس ای کے طلبا کو خطرے میں ڈالا لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہیں کوئی نئی معلومات نہیں ملیں بلکہ صرف وہی جو شمالی کوریا سیاحوں کو دکھانا چاہتا ہے۔‘

اسی بارے میں