شام میں فضائی حملے میں ’25 افراد ہلاک‘

Image caption دمشق پر سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں

کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے ایک فضائی حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے اکثر بچے تھے۔

برطانیہ میں قائم شامی تنظیم ایس او ایچ آر نے بتایا کہ ایک حملے میں دمشق کے ایک نواحی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جس سے کم از کم نو بچے مارے گئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک اور حملے میں کردوں کی اکثریت والے حسکہ صوبے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں شام پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔

دمشق میں ہونے والا حملہ قبون کے علاقے میں ہوا، جہاں اکثر شامی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ حسکہ میں مرنے والوں میں تین عورتیں اور دو بچے شامل تھے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمٰن نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دمشق میں حملے والے علاقے میں باغی ایک گھر میں جمع ہوا کرتے تھے، لیکن جن گھروں کو نشانہ بنایا گیا وہ اس سے دور تھے۔

ایس او ایچ آر ملک بھر میں اپنے روابط کی مدد سے دونوں فریقوں کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے۔

اس علاقے میں موجود ایک کارکن نے اے ایف پی کو فون کے ذریعے بتایا کہ شہر سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں، اور فضائی اور زمینی حملوں سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔‘

ایس او ایچ آر نے تخمینہ لگایا ہے کہ شام میں دو سال سے جاری بغاوت میں مارچ سب سے زیادہ مہلک مہینہ تھا، جس میں چھ ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ ان میں سے ایک تہائی عام شہری تھے۔

اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس تنازعے میں اب تک 70 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم نے شامی حکومت پر الزام لگایا تھا وہ شہریوں کے خلاف دانستہ حملے کرتی ہے۔

ایک اور واقعے میں سرکاری خبررساں ادارے سانا نے کہا ہے کہ اتوار کے روز سرکاری ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والے تین صحافی حلب صوبے میں ایک کار بم دھماکے میں زخمی ہو گئے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

اسی بارے میں