وینزویلا: اوگو چاویس کے بعد انتخابات

Image caption تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ ووٹر ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

وینزویلا کے عوام سابق صدر اوگو چاویس کے انتقال کے بعد صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

چاویس کے منتخب کردہ قائم مقام صدر نیکولس مادورو کا مقابلہ میراندا ریاست کے گورنر اینریک کیپریلس سے ہے۔

کیپریلس گذشتہ اکتوبر میں سخت مقابلے کے بعد چاویس سے ہار گئے تھے۔

انتخابات سے پہلے کی رات انھوں نے مادورو پر الزام لگایا کہ وہ سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنی مہم جاری رکھ کر انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ پرسکون طریقے سے جاری ہے۔ دارالحکومت کراکس میں بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ کہتے ہیں کہ انتخابات کے لیے سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

50 سالہ مادورو کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ ان کی چاویس سے قربت ہے۔ انھوں نے حال ہی میں جب چاویس کی قبر کا دورہ کیا تو کیپریلس نے الزام لگایا کہ وہ ’تمام انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘

تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ ووٹر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

مادورو نے کراکس میں ووٹ ڈالا۔ ان کے ساتھ چاویس کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ کیپریلس نے شہر کے ایک اور علاقے میں ووٹ ڈالا۔

انتخابات کی شفافیت پر نطر رکھنے کے لیے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے سینکڑوں مبصر اور بین الاقوامی تنظیمیں وینزویلا میں موجود ہیں۔

ووٹنگ الیکٹرانک طریقے سے ہو رہی ہے۔ ایک مشین ووٹروں کے فنگر پرنٹ چیک کرتی ہے جب کہ دوسری شناختی کارڈ نمبر چیک کرنے کے بعد خفیہ طریقے سے ووٹ رجسٹر کر لیتی ہے۔

ووٹنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قطاروں میں کھڑے تمام لوگ ووٹ ڈال نہ دیں۔

ووٹنگ بند ہونے کے تین چار گھنٹے کے اندر اندر سرکاری نتائج کے اعلان کی توقع ہے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ دیکھا جانا ابھی باقی ہے کہ لوگ کتنے جوش و خروش سے ان انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، اور آیا ملک میں آنے والا بولیوارین انقلاب جاری رہتا ہے یا ملک کسی نئی سمت میں جاتا ہے۔

دونوں صدارتی امیدواروں نے صبح ٹوئٹر پر پیغامات نشر کیے۔

مادورو نے عوام سے کہا کہ وہ مستقبل کی ضمانت اور اپنے ملک کے مستقل امن کی خاطر ووٹ دیں۔ جب کہ ان کے حریف کیپریلس نے کہا، ’اہم دن آ گیا ہے!‘ انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بغیر ڈر کے ووٹ ڈالیں۔

اسی بارے میں