’طلبا کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا‘

بی بی سی نے لندن کے سکول آف اکنامکس کی طلبا یونین کا یہ مطالبہ منظور نہیں جس میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے بارے میں پینوراما پروگرام نہ چلایا جائے۔

طلبا یونین کا کہنا تھا کہ’اس پروگرام کے لیے شمالی کوریا میں عکس بندی کے لیے طالب علموں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا‘۔

ایل ایس ای کے دس طالب علموں نے بی بی سی کے تین صحافیوں کے ساتھ شمالی کوریا میں آٹھ دن گزارے تھے۔

لندن سکول آف اکنامکس(ایل ایس ای) کی طلبا یونین کی جنرل سیکریٹری ایلکس پیٹرز ڈے کا کہنا ہے کہ پیر کو پروگرام نشر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ طالب علموں سے جھوٹ بولا گیا اور انہیں مکمل معلومات پر مبنی رضامندی نہیں دی گئی تھی۔

لندن سکول آف اکنامکس(ایل ایس ای) کے مطابق بی بی سی کے رپورٹر جان سوینی جو کہ پی ایچ ڈی کے طالب علم کا روپ دھار کر یونیورسٹی کے سوسائٹی کے ساتھ گئے تھے انہوں نے دورے سے پہلے اپنے کام کے بارے میں طلبا کو مکمل معلومات نہیں دی تھیں۔ اس وجہ سے انہوں نے طالب علموں کی خطرے میں ڈالا۔

دوسری طرف بی بی سی کا کہنا ہے کہ طلبا کو ممکنہ خطرات کے بارے میں مکمل طور پر خبردار کیا گیا تھا۔

بی بی سی پروگرامز کے سربراہ سری تھامس کا کہنا ہے کہ’شمالی کوریا کی حکومت واحد فریق تھی جسے بی بی سی نے دھوکہ دیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ’ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس طرح کے دورے سے پہلے لوگوں کو اچھی طرح سے معلومات فراہم کریں تاکہ وہ ہمیں مکمل طور آگاہ رضامندی دیں‘۔

’دس طالب علموں تھے، جنہیں بتایا گیا کہ وہ دورے کے دوران صحافی ہوں گے اور اگر اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ تو اس کا طلب ہو گا کہ حراست میں لیا جائے گا، اس کا مطلب گرفتاری ہو گا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نو طالب علموں کی عمر اکیس سے اٹھائیس سال کے درمیان تھی جبکہ ایک کی عمر اٹھارہ سال تھی۔

اس سے پہلےیونیورسٹی کی طرف سے طلبا اور سٹاف کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے دورے میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے دو اور افراد بھی موجود تھے۔

ای میل کے مطابق’دورے سے پہلے کسی بھی موقع پر طلبا کو یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ تین افراد پر مشتمل بی بی سی کی ٹیم اس دورے کو ڈاکومینٹری بنانے کے لیے کور(cover) کے طور پر استعمال کرے گی اور یہ ڈاکومینٹری پینوراما پر دکھائی جائے گی۔‘

بی بی سی پروگرامز کے سربراہ سری تھامس نے تسلیم کیا ہے کہا کہ ابتداء میں طلباء کو بتایا گیا تھا کہ ان کے ہمراہ ایک صحافی ہو گا لیکن بیجنگ پہنچنے پر انہیں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ تین صحافی ان کے ساتھ شمالی کوریا کا سفر کریں گے‘۔

ایل ای ای کا کہنا ہے کہ ’بی بی سی کے اقدامات کی وجہ سے شاید ایل ایس ای کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہو اور اس وجہ سے ایل ایس ای کے طلبا مستقبل میں شمالی کوریا اور ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کے جہاں آزاد تحقیقاتی کام پر شک کیا جاتا ہو قانونی طور پر جائز مطالعے سے محروم ہو جائیں۔‘

ان کے ای میل میں کہا گیا ہے کہ’ایل ایس سی عوام کی مفاد میں تحقیقاتی صحافت کی تائید کرتی ہے لیکن تاہم ہم اس کام کے لیے اپنے نام اور طلبا کو کور(cover) کے طور پر استعمال کرنے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

ایل ایس ای نے کہا کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل لارڈ ہال نے ان کی جانب سے پروگرام کو نہ چلانے اور ’بی بی سی کے سٹاف کا ایل ایس ای کی اچھی شہرت کودھوکہ دہی کے لیے استعمال کرنے کے عمل پر مکمل معافی مانگنے‘ کی درخواست کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

بی بی سی کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چونکہ اس عمل سے دورے میں خطرات بڑھ سکتے تھے اس لیے طلبا کو ان کے گروپ میں صحافی کے ہونے کے بارے میں پہلے سے بتا دینا چاہیے تھا تاکہ وہ اس بارے میں اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کرتے ۔‘

بی بی سی کے پرگرام پینوراما کے نامہ نگار جان سوینی نے پروگرام کے لیے خفیہ طور پر شمالی کوریا میں آٹھ دن گزارے اور سفر میں ان کی اہلیہ اور ایک کیمرہ مین بھی ہمراہ تھا۔

اسی بارے میں