بوسٹن میراتھن کے راستے میں دو دھماکے، تین ہلاک

Image caption بوسٹن دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا

امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں پولیس کے مطابق میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

امریکہ میں کھیلوں کے بڑے مقابلوں میں سے ایک بوسٹن میراتھون ریس میں ہونے والے ان دھماکوں کے بعد بوسٹن میں افراتفری کی کیفیت ہے۔

بوسٹن دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی سروسز جائے وقوع پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ادھر بوسٹن پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں واقع جے ایف کے لائبریری ایک تیسرا دھماکہ ہوا ہے تاہم پولیس نے ابھی اس کے بارے میں کوئی حتمی بیان نہیں جاری کیا ہے اور اس کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا ’اس واقعہ کے ذمہ داروں کو لازمی کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔ ہمارے پاس ابھی پورے جوابات نہیں ہیں اور ابھی ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کس نے اور کیوں کیا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی سکیورٹی کو مزید بڑھائے گی تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی کہ آیا یہ واقعہ کسی بڑی سازش کا حصہ تو نہیں۔

نیویارک میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبیٰ کے مطابق بوسٹن میں دھماکوں اور ا ن سے متصل وسیع علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں امدادی کام جاری ہے جبکہ نیویارک شہر کے ٹائمز اسکوئر اور داارلحکومت واشنگٹن ڈی سی کے پینسلوانیہ ایوینیو کو بھی خالی کرایا گیا ہے۔

بوسٹن میں دھماکے والے جگہ کے قریبی فاصلے پر ہارورڈ یونیورسٹی اور اس سے ملحق کینیڈی سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

نیویارک شہر کے مرکزی اور مصروف علاقوں مین سخت حفاظتی انتظام کیے گئے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بوسٹن دھماکوں کے ذمہ داران کا ابھی تعین قبل از وقت ہوگا۔

Image caption صدر اوباما نے بوسٹن کے میئر اور میساچوسٹس کے گورنر سے رابطہ کر کے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی امداد کی یقین دہانی کروائی ہے

ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں حکام کے مطابق پہلے دھماکے کے بعد پولیس، ایبمولینس اور آگ بھجانے والے انجن دھماکوں کی جگہ پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لیکر وہاں سے لوگوں کو فوری طور خالی کروانا شروع کردیا۔

حکام کے مطابق دھماکہ پیر کی سہ پہر تین بجے کے بعد بوسٹن شہر کے فوٹو برج کے پاس میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہوا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔

خیال رہے کہ انیسوں صدی کے آخر میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں شروع ہونے والی یہ میراتھن ریسں دنیا کی بڑی چھ میراتھن ریس میں شامل ہے۔

امریکی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیویارک کی میراتھن کے حفاظتی اقدامات کے طور پر میراتھن کی راستوں پر پڑنے والے مین ہول یا گٹروں کے ڈھکنے سیل کیے جا ر ہے اور میراتھن کے راستے میں آنے والی سڑکوں پر بلند عمارات پر نشانے باز متعین اور طاقتور کمیرے نصب کیے جا رہے ہیں جو وہاں سے چلنے والی گاڑیوں کے نمبر پیلٹس پڑھ سکتے ہیں۔

میساچوسٹس جنرل ہسپتال کی ترجمان نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں دھماکوں میں زخمی ہونے والے 19 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ بتایا نہیں جا سکتا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے امریکی صدر باراک اوباما کو بوسٹن میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق آگاہ کر دیاگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق صدر اوباما نے بوسٹن کے میئر ٹام مینینو اور میساچوسٹس کے گورنر ڈیول پیٹرک سے رابطہ کر کے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی امداد کی یقین دہانی کروائی ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اس واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی دعائیں متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ میراتھن ریس میں حصہ لینے والے والے کھلاڑیوں کی جانب سے اختتامی لائن عبور کرنے کے دوران پیش آیا۔

میراتھن ریس میں شریک کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک کھلاڑی مائیک مچل نے ریس ختم کرنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھا تو اختتامی لائن کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔

مچل نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ دھماکوں کے بعد پچاس فِٹ کی بلندی تک دھواں اٹھ رہا تھا اور لوگ چیختے ہوئے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

اسی بارے میں