بوسٹن میں عینی شاہدوں نے کیا دیکھا

امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں پولیس کے مطابق میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے۔

بوسٹن میراتھن کے راستے میں ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے عینی شاہدین کے تاثرات۔

بروس مینڈلسن، سابق فوجی

میں نے ایک دھماکہ سنا، پھر اس کے بعد دھواں دیکھا اور محسوس کیا کہ ایک دوسرا دھماکہ بھی ہوا جو پہلے دھماکے کے تقریباً پانچ سیکنڈوں کے بعد ہوا۔

میں اس عمارت سے نکلا جو جائے دھماکہ کے بالکل اوپر تھی اور کیا دیکھتا ہوں کہ سڑک پر خون اور بم کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔ میں نے ایسے زخم دیکھے جو زمین پر ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ میں نے کوشش کی کہ جو امدادی کارکن موقع پر آ چکے تھے ان کی مدد کروں۔

یہ سب بہت خوفناک تھا اور لوگ گیارہ ستمبر کو یاد کرنے میں حق بجانب ہیں۔ حال یہ تھا کہ ایک پرجوش، خوشی کا لمحہ دیکھتے ہی دیکھتے خون میں نہا گیا۔ دھماکہ ایک عمارت کے اندر ہوا تھا جس کے نتیجے میں شیشے ٹوٹ گئے اور یہ ٹوٹے ہوئے شیشے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔

میں نے ابتدائی طبی امداد دینے میں لوگوں کی مدد کی مگر جب پولیس آئی تو انہوں نے علاقہ خالی کروا لیا۔

جوش کوکس، امریکی کمنٹیٹر اور ریس میں دوڑنے والے

وہاں انسانوں کے جسم پڑے تھے زمین پر، کچھ دوڑنے والے جنہوں نے دوڑ ختم ہی کی تھی خوف کے مارے چیخ یا رو رہے تھے جو ظاہر ہے اس دھماکے کے خوف کا نتیجہ تھا۔ یہ بہت افسوسناک ہے، بہت ہی افسوسناک۔

یہ بہت بڑا دھماکہ تھا اور جب پہلا دھماکہ ہوا تو زمین جیسے ہلی پہلے تو میں نے بم کا نہیں سوچا اور خیال آیا کہ بجلی کا ٹرانسفارمر ہوگا یا کوئی جنریٹر۔ میں نے تصویر لی اور اسی اثنا میں دوسرا دھماکہ ہوا اور اس کے بعد ہر کوئی خوف کے مارے دوڑنے اور علاقے سے بھاگنے لگا۔

فاطمہ تانیس، صحافی

میں تقریباً جائے دھماکہ سے تین سو کلومیٹر دور تھی اور ایک ریس میں دوڑنے والے کا انٹرویو کر رہی تھی اور میرا کیمرا چل رہا تھا۔ اچانک میں نے زوردار آواز سنی جیسے ایک توپ چلی ہو اور اس کے نتیجے میں زمین لرز اٹھی۔

میں نے آگ کا ایک بگولہ دیکھا اور پھر دھواں جیسے ایک توپ سے نکلتا ہے۔جو لوگ جائے دھماکہ سے قریب تھے وہ بہت خوف کا شکار تھے ان کے چہروں پر شیشے لگنے سے کٹ لگے ہوئے تھے اور یہ سب دوڑ کر پناہ تلاش کر رہے تھے۔

میں جب مزید قریب گئی تو میں نے سڑک پر خون اور انسانی جسم دیکھے اور پھر دوسرا دھماکہ ہوا۔

سٹورٹ سنگر، میراتھن میں دوڑنے والے ایک برطانوی

میں نے میراتھن دوڑ ختم کی اور اپنی بیوی سے ملا اور اس کے بعد ہم اپنے ہوٹل کی جانب چلنا شروع ہوئے اور پھر ہم نے دھماکے کی آواز سنی اور بہت سے سائرن بجتے سنے۔

ہم نے اس پر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی اور سوچا کہ کچھ ہوا ہوگا اور چلتے گئے۔ پھر جب ہم نے خبریں دیکھیں تو ہمیں ہمارے دوست احباب نے فون کالیں کرنا شروع کر دیں اور پھر ہمیں احساس ہوا اور یہ واقعی بہت خوفناک تھا۔

وہاں بہت سارے لوگ تھے، پانی پلانے والے، تولیے دینے والے، دوڑنے والوں کو دیکھنے والے تماشائی اور یقیناً وہاں بہت افراتفری کا عالم ہو گا۔

جہاں دھماکہ ہوا وہاں تو بہت بڑی تعداد میں لوگ ہوتے ہیں کیونکہ آپ کے عزیز و اقارب سب آپ کو دیکھنے اور ملنے وہیں آتے ہیں کیونکہ وہاں ریس ختم ہوتی ہے اور اسی جگہ یہ دھماکہ ہوا۔

اسی بارے میں