بوسٹن میں’دہشتگرد‘دھماکوں کی تحقیقات جاری

Image caption دھماکوں کے بعد بوسٹن میں افراتفری کی کیفیت تھی

امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے، زخمیوں میں سے سترہ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تحقیقات کو’ممکنہ دہشت گردی‘ کی تفتیش بیان کیا ہے۔

اگر تصدیق کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ تھا تو یہ امریکہ میں نائن الیون دو ہزار گیارہ کے بعد دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہو گا۔

بوسٹن پولیس کے مطابق تمام اہلکار چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بوسٹن دھماکوں کی تصاویر

بوسٹن میں عینی شاہدوں نے کیا دیکھا

ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے ٹیللی ویژن پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اگرچہ صدر اوباما نے خطاب میں دہشت گردی کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے تاہم اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ’ کوئی بھی ایسا واقعہ جس میں ایک سے زائد دھماکہ خیز آلات کا استعمال کیا جائے، اور ایسا لگ بھی رہا ہے، یہ ایک واضح طور پر دہشت گرد کارروائی ہے اور اس کو دہشت گرد کارروائی کے طور پر لیا جائے گا‘۔

بوسٹن پولیس کے کمشنر ایڈورڈ ڈیوس نے دھماکوں کے بعد نیوز کانفرس میں کہا تھا کہ’ کوئی مخصوص انٹیلیجنس معلومات نہیں تھیں کہ کچھ ہونے جا رہا ہے‘۔

انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور باہر ایک گروپ کی شکل میں جمع نہ ہوں۔

ایک مقامی ٹیلی ویژن کے مطابق دھماکے کے بعد تحقیقات کے سلسلے میں بوسٹن کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع ایک فلیٹ کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

ریاست میساچوسٹس کےگورنر ڈیول پیٹرک نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو شہر کھلا رہے گا تاہم امن و امان قائم کرنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہو گی، بے قاعدگی سے پارسلز اور سفری بیگز کی تلاشی لی جائے گی، تمام لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی چوکس رہیں‘۔

ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ نے اس موقع پر بتایا کہ تحقیقات میں شہر، ریاست اور فیڈرل شامل ہے تاہم انہوں نے اس ضمن میں کوئی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

امریکہ کے خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک آٹھ سال کا بچہ بھی شامل ہے اور اس بچے کی بہن اور والدہ زخمیوں میں شامل ہیں اور یہ بچے اپنے والد کی میراتھن ریس ختم ہونے کے انتظار میں تھے‘۔

پولیس کے مطابق میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

امریکہ میں کھیلوں کے بڑے مقابلوں میں سے ایک بوسٹن میراتھن ریس میں ہونے والے ان دھماکوں کے بعد بوسٹن میں افراتفری کی کیفیت تھی۔

ادھر بوسٹن پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں واقع جے ایف کے لائبریری ایک تیسرا دھماکہ ہوا ہے تاہم پولیس نے ابھی اس کے بارے میں کوئی حتمی بیان نہیں جاری کیا ہے اور اس کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بوسٹن میں دھماکوں اور ا ن سے متصل وسیع علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں امدادی کام جاری ہے جبکہ نیویارک شہر کے ٹائمز سکوئر اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے پینسلوانیہ ایوینیو کو بھی خالی کرایا گیا ہے۔

Image caption میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہوا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے

بوسٹن میں دھماکے والے جگہ کے قریبی فاصلے پر ہارورڈ یونیورسٹی اور اس سے متصل کینیڈی سکول بھی بند کر دیے گئے۔

نیویارک شہر کے مرکزی اور مصروف علاقوں مین سخت حفاظتی انتظام کیے گئے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بوسٹن دھماکوں کے ذمہ داران کا ابھی تعین قبل از وقت ہوگا۔

حکام کے مطابق دھماکہ پیر کی سہ پہر تین بجے کے بعد بوسٹن شہر کے فوٹو برج کے پاس میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہوا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔

خیال رہے کہ انیسوں صدی کے آخر میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں شروع ہونے والی یہ میراتھن ریسں دنیا کی چھ بڑی میراتھن ریس میں شامل ہے۔

امریکی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیویارک کی میراتھن کے حفاظتی اقدامات کے طور پر میراتھن کی راستوں پر پڑنے والے مین ہول یا گٹروں کے ڈھکنے سیل کیے جا رہے اور میراتھن کے راستے میں آنے والی سڑکوں پر بلند عمارتوں پر نشانے باز تعینات اور طاقتور کمیرے نصب کیے جا رہے ہیں جو وہاں سے چلنے والی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز پڑھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں