’ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے بوسٹن دھماکوں کے بعد ٹیلی ویژن پر ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمے داروں کو تلاش کر کے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ یہ کس نے اور کیوں کیا ہے اور لوگوں کو اس وقت تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچنا چاہیے جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آ جاتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کے مطابق کوئی غلطی نہیں کی جائے گی اور اس واقعے کی تہہ تک پہنچیں گے اور پتہ چلائیں گے کہ یہ کس نے کیا، ہم معلوم کریں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، اس واقعے کے ذمے دار کوئی بھی شخص یا گروہ انصاف کی طاقت کو شدت سے محسوس کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ’آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ہمیں جسیے ہی مزید معلومات حاصل ہوں گی ہماری ٹیمیں آپ کو اس کے بارے میں آگاہ کریں گی، اس وقت ہم تحقیقات کے مرحلے میں ہیں لیکن میں اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم واقعہ کے ذمہ داروں کو ڈھونڈ لیں گے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے‘۔

امریکی صدر کے مطابق دھماکوں کے بعد صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وفاق کی جانب سے ریاست اور مقامی حکام کو بھرپور مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ ہمارے لوگوں کا تحفظ کیا جا سکے اور ضرورت کے مطابق امریکہ بھر میں سکیورٹی کے انتظامات میں اضافہ کیا جا سکے اور واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ابھی تمام جوابات نہیں ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ بوسٹن کی میراتھن ریس میں ہونے والے دھماکوں میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور بعض کی حالت نازک ہے۔

صدر اوباما نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ملر اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری سے بات کی ہے اور وہ تحقیقات اور ردعمل دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

صدر اوباما کے مطابق ان کی ریاست کے گورنر پیٹرک اور میئر مینینو سے بات ہوئے ہے اور ان پر واضح کیا ہے کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے وفاق کے تمام ممکن وسائل دستیاب ہیں اور امریکہ بوسٹن کی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکی صدر نے دھماکوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے امدادی کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے فوری ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو سلام جنہوں نے تیزی اور پیشہ وارانہ طریقے سے اس المیے کے دوران امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

اسی بارے میں