چین میں زلزلے سے 160 ہلاک

Image caption چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کے لیے چھ ہزار سکیورٹی اہلکار متاثرہ علاقے میں بھیج دیے ہیں

چین کے صوبے سیچوان میں سنیچر کو آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس سے 6700 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

زلزلے سےلوشان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور امدادی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔

یہ زلزلہ چین کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے آیا تھا اور امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.6 تھی۔

زلزلے کا مرکز لِن چیانگ شہر سے 80 کلومیٹر مغرب میں تھا اور یہ سطحِ زمین سے 12.3 کلومیٹر نیچے آیا۔

زلزلے کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بیشتر عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے اس علاقے تک رسائی کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں اور امدادی کارکنوں کو وہاں تک پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق امداد کارکن چینگڈو کے مغرب میں پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے سے سے تباہ شدہ دیہات میں ملنے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔ چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کے لیے چھ ہزار سکیورٹی اہلکار متاثرہ علاقے میں بھیج دیے ہیں۔

چین کے نئے وزیراعظم لی کیچنگ نے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے اور وہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

Image caption سیچوان صوبے میں پہلے بھی بڑے زلزلے آتے رہے ہیں

چین کے سرکاری خبررساں ادارے زنہوا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے 115 کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت چینگدو میں بھی محسوس کیے گئے۔

چینگدو کے ایک باسی نے زنہوا کو بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ ایک عمارت کی تیرہویں منزل پر تھے۔ انھوں نے کہا کہ عمارت 20 سیکنڈ تک جھولتی رہی اور انھوں نے دوسری عمارتوں سے ٹائلیں گرتی ہوئی دیکھیں۔

ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کا سب سے ڈراؤنا لمحہ تھا- میں سو رہا تھا اور جب یکدم میری آنکھ کھلی تو میرا بستر ہل رہا تھا۔دیواریں مڑی جا رہی تھیں۔ یکایک سڑک پر آوازیں سنائی دیں اور تب مجھی اندازہ ہوا کہ زلزلہ آیا ہے۔‘

اس علاقے میں پہلے بھی زلزلے آتے رہے ہیں اور یہاں مئی 2008 میں آنے والے زلزلے سے 90 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں