بوسٹن: ’جوہر سے شاید تفتیش نہ کی جاسکے‘

Image caption تفتیش کی ذمہ داری’ہائی ویلیو ڈیٹینی انٹیروگیشن گروپ‘ کو دی گئی ہے

امریکی شہر بوسٹن کے میئر کا کہنا ہے کہ گزشتہ پیر کو میراتھن دوڑ کے موقع پر ہونے والے دھماکوں کے ملزم جوہر سارنیف کی حالت کے باعث اس سے پوچھ گچھ نہ کی جاسکے۔

بوسٹن کے میئر ٹام مینینو نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں بھائیوں کا یہ انفرادی فعل تھا اور وہ مزید دھماکوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے تھے۔

دوسری جانب دونوں بھائیوں کے گھر والوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑا بھائی تیمرلان امریکہ میں رہتا ہوا انتہا پسندی کی جانب راغب ہوا۔

تیمرلان کی ایک آنٹی نے بتایا کہ ان کا خاندان چیچنیا سے داغستان منتقل ہوئے تھے اور ان سے ملنے کے لیے وہ پچھلے سال داغستان آیا تھا۔

تیمرلان کی آنٹی نے کہا کہ تیمرلان کی ان کے شوہر سے بڑی لمبی بحث ہوئی تھی اور اس بحث میں صاف ظاہر تھا کا وہ اسلام کے سخت گیر وہابی مکتبہ فکر کی جانب سے راغب ہو گئے تھے۔

ان کی آنٹی کا کہنا تھا کہ خاندان میں کوئی بھی اسلام کے سخت گیر وہابی مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتا۔

اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بوسٹن میں گزشتہ پیر کو میراتھن دوڑ کے موقع پر ہونے والے دھماکوں کے ملزم جوہر سارنیف کی حالت مستحکم ہے اور ایک خصوصی تفتیشی ٹیم ان سے پوچھ گچھ کے لیے ان کی حالت میں مزید بہتری کی منتظر ہے۔

بوسٹن میراتھن کی اختتامی لکیر کے قریب ہونے والے دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 170 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

19 سالہ چیچن نژاد جوہر کو جمعہ کو پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے بعد بوسٹن کے نواحی علاقے واٹرٹاؤن سے حراست میں لیا تھا۔

دونوں بھائیوں نے جمعرات کی رات ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں بھی ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب کہ ایک اور کو زخمی کر دیا تھا۔وہ جمعرات کی شب سے جاری آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں اپنے بھائی اور اس واقعے کے دوسرے ملزم تیمرلان سارنیف سمیت زخمی ہوئے تھے لیکن تیمرلان زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے تھے۔

جوہر کو مقامی ہسپتال میں کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ میساچوسٹس کے گورنر ڈیول پیٹرک کا کہنا ہے کہ ان کی حالت مستحکم ہے لیکن وہ ابھی بات چیت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

جوہر زخمی حالت میں واٹرٹاؤن میں ایک کشتی میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے دوران پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں وہ مزید زخمی ہوئے تھے۔

ان سے تفتیش کی ذمہ داری اہم ملزمان سے تفتیش کرنے والے سکیورٹی اداروں کے مشترکہ ’ہائی ویلیو ڈیٹینی انٹیروگیشن گروپ‘ کو دی گئی ہے جو بوسٹن میں جوہر کی حالت میں بہتری کے منتظر ہیں۔

بوسٹن میں ہسپتال کے باہر موجود بی بی سی کے ڈیوڈ ولس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گردن اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں اور اس کا بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ تفتیش کاروں کو اس سے بات کرنے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا پڑے۔

سنیچر کو میساچوسٹس کے گورنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اور تحقیقاتی اداروں کے ارکان مشتبہ شخص کے زندہ بچ جانے کے لیے پرامید ہیں کیونکہ ہمارے پاس لاکھوں ایسے سوال ہیں جن کے ہمیں جواب چاہیئیں ہیں۔‘

Image caption سارنیف برادران دس سال سے امریکہ میں مقیم تھے

ادھر امریکی حکام اس بات پر بھی غوروخوص کر رہے ہیں کہ جوہر سارنیف پر کون کون سے الزامات عائد کیے جائیں۔امریکہ میں وفاقی سطح پر عوامی سطح پر ہلاکتوں کے لیے ہتھیار کے استعمال کی سزا موت ہے لیکن ریاست میساچوسٹس میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔

امریکی صدر اوباما نے جمعہ کی رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا وہ اس بات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے یہ بھائی کیسے اس حملے کی طرف راغب ہوئے اور آیا انھیں کسی اور کی مدد تو حاصل نہیں تھی۔

ایف بی آئی نے 2011 میں ایک ملک کے کہنے پر تیمرلان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ تاہم انھوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا۔

ان بھائیوں کے والد انزور سارنےیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں خفیہ اداروں نے ان کے بیٹوں کو پھنسایا ہے:

’یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جسے خفیہ اداروں نے بڑی احتیاط سے ترتیب دیا تھا۔ میرا بیٹا مسجد جایا کرتا تھا۔ سیکرٹ سروس والے ایک دن آئے اور پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔اس کے بعد انھوں نے سارا الزام اس پر دھر کر اسے گولی مار دی۔‘

اسی بارے میں