لیبیا میں فرانسیسی سفارت خانے پر حملہ

Image caption طرابلس میں حملے کا نشانہ بننے والے فرانس کے سفارت خانے کے باہر لوگ کھڑے ہوئے ہیں

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر ایک کار بم دھماکا ہوا ہے جس میں دو فرانسیسی محافظ اور کئی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکے سے پہلی منزل پر واقع استقبالیہ اور احاطے کی دیوار تباہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ ملحقہ مکانوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے لیبیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ’ناقابلِ قبول‘واقعے کے خلاف سرعت سے عمل کرے۔

یہ لیبیا میں کسی بیرونی سفارت خانے پر ہونے والا پہلا حملہ ہے۔

یہ دھماکا طرابلس کے ایک مہنگے علاقے میں صبح سات بجے کے قریب پیش آیا۔حملے میں ایک محافظ بری طرح زخمی ہوا ہے جب کہ دوسرے کو ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔ کئی شہری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ایک چھوٹی بچی کی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ آئی ہے۔ اس کے باپ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے علاج کے لیے پڑوسی ملک تیونس منتقل کر دیا گیا ہے۔

طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد نے بتایا کہ فرانس کا سفارت خانہ ایک چھوٹی سی بغلی گلی میں واقع ہے اور دھماکے کے بعد وہاں تباہی کے مناظر نظر آئے۔

سفارت خانے کی عمارت اور احاطے کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ دو قریبی مکان بری طرح متاثر ہوئے ہیں جب کہ چند دوسرے مکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایک دکان کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو کھڑی ہوئی کاریں جل گئیں۔

ہماری نامہ نگار نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد وہاں جمع ہونے والے پڑوسی واضح طور پر صدمے کا شکار تھے۔

انھوں نے کہا سفارت خانے کے لیے سکیورٹی کم تھی۔

ایک مقامی شخص نے کہا، ’اس محلے میں فرانسیسی سفارت خانہ قائم کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔‘

صدر اولاند نے کہا کہ اس حملے میں ’ان تمام ملکوں اور بین الاقوامی برادری کو ہدف بنایا گیا ہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

’فرانس توقع رکھتا ہے کہ لیبیا کے حکام اس ناقابلِ قبول واقعے پر مکمل روشنی ڈالیں گے، تاکہ اس میں ملوث افراد کو شناخت کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔‘

فرانس کے وزیرِخارجہ لوراں فبیوس لیبیا میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فرانسیسی حکام لیبیائی حکام کے ساتھ مل کر یہ جانیں گے کہ اس ’قابلِ نفرت‘ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

لیبیا کے وزیرِخارجہ محمد عبدالعزیز نے حملے کو ’دہشت گردانہ‘ قرار دیا، تاہم انھوں نے یہ نہیں کہا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

اب تک کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

جب سے فرانس نے پر مالی کے اسلامی شدت پسندوں پر حملہ کیا ہے اس کے بعد سے تمام شمالی افریقہ میں فرانسیسی سفارت خانوں کو ’ہائی الرٹ‘ پر رکھ دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں