مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے: جان کیری

امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات امریکہ کی سربراہی میں بدھ کو برسلز کے مضافات میں واقع ٹرومین ہال میں ہوئے اور اس کی میزبانی جان کیری نے کی جس میں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی فوج کے سپہ سالار اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔

یہ بات چیت افغانستان ، پاکستان اور امریکہ کے مابین سہ فریقی مذاکرات کی کڑی کی طور پر بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں جس کی وجہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مبینہ روابط ہیں۔

تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد جان کیری نے کہا کہ’یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم سب یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے ان مذاکرات میں پیش رفت کی۔‘

انہوں نے کہا کہ’ہم سب کو بہت کام کرنا ہے۔ہم توقعات بڑھانا نہیں چاہتے یا ایسے وعدے نہیں کر سکتے جو پورے نہ ہوں۔‘

لیکن بی بی سی کے ڈیوڈ لیئون کا کہنا ہے کہ 2014 میں نیٹو افواج کی افغانستان سے انخلا تک دونوں طرفین (افغانستان پاکستان) کسی قسم کے لچک کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

ان مذاکرات سے ایک دن پہلے نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس راسموسن نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان امریکہ اور نیٹو کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں ہے اور پاکستان سے اس قسم کے مطالبے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔

راسموسن امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر منگل کو افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ بات کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ نیٹو افغانستان میں سالوں تک جاری اپنی فوجی مشن کو آئندہ سال کے آخر تک ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

نیٹو کے برسلز ہیڈکوارٹر میں راسموسن نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ہم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں دیر پا قیامِ امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا ’پاکستان اور افغانستان کا باہمی مفاد شدت پسندی، انتہا پسندی اور سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کے خلاف لڑنا ہے۔‘

تقریباً ایک لاکھ افراد پر مشتمل اتحادی افواج 2014 کے اخر تک افغانستان سے نکل جائیں گے جس کے بعد نیٹو کے مطابق نیٹو کا کردار صرف ٹریننگ دینے کا ہو گا۔

دوسری طرف نیٹو کی ایک رپورٹ میں جو فروروی میں لیک یا افشا ہو گئی ہے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان کے سرزمین پر پناہ لینے والے طالبان رہنماؤں کے بارے میں جانتا ہے۔ یہ رپورٹ 27000 گرفتار طالبان، القائدہ اور بیرونی جنگجوں اور عام شہریوں سے کی گئی تفتیس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نصیرالدین حقانی جیسے سینیئر طالبان رہنما اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

پاکستان اس کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کا افغانستان میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان نے اپنے سرزمین پر عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں ہیں۔

اسی بارے میں