شام میں ہزار سال پرانا مینار تباہ

Image caption حلب کی تاریخی جامع الکبیر کا یہ مینار 1090 میں تعیمر کیا گیا تھا

شام کے شہر حلب میں جھڑپوں کے دوران دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک کا مینار تباہ ہو گیا ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں یونیسکو نے مسجد کے تحفظ کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا، ’یہ دنیا کی حسین ترین مساجد میں سے ایک ہے۔‘

سرکاری خبررساں ادارنے سانا نے بتایا ہے کہ باغیوں نے اموی مسجد کا گیارھویں صدی میں قائم کردہ مینار تباہ کر ڈالا۔

تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ مینار شامی فوجی ٹینک کے فائر کا نشانہ بنا۔

یہ مسجد یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے، اور یہ اس سال کے اوائل سے باغیوں کے قبضے میں ہے۔ تاہم مسجد کے آس پاس کا علاقہ پر غلبے کے لیے اس کی سرکاری فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مینار مسجد کے ٹائلوں لگے صحن میں ملبے کے ڈھیر کے شکل میں پڑا ہوا ہے۔

مسجد کے دوسرے حصے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو 12ویں صدی میں تعمیر کیے گئے تھے۔

سانا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم جہادۃ النصرہ کے جنگ جوؤں نے اس مشہور مینار کو زمیں بوس کر دیا۔

ادارے نے ایک اہلکار کا بیان نقل کیا ہے کہ ’دہشت گردوں نے مینار اور مسجد کے جنوبی دروازے میں بارود رکھ کر اسے آگ دکھا دی۔‘

تاہم حلب کے رہائشی کارکن محمد الخطیب نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک گولے نے 148 فٹ اونچے مینار کو ’مکمل طور پر‘ تباہ کر ڈالا۔

مسجد کو مہینوں سے جاری جنگ میں بڑا نقصان پہنچا ہے اور اس کی قدیم دیواریں اور مزین ستون متاثر ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغض قدیم سامان چوری بھی ہوا ہے، جن میں ایک صندوق بھی شامل ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کا بال تھا۔

تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن کے قدیم نسخے محفوظ کر لیے ہیں۔

اسی بارے میں