ڈھاکہ: منہدم عمارت میں مرنے والوں کی تعداد 147 ہو گئی

Image caption اطلاعات کے مطابق تقریباً 1000 کے قریب افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں منہدم آٹھ منزلہ عمارت کے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش تیزی سے جاری ہے۔ بدھ کو گرنے والی اس عمارت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 147 ہو گئی ہے۔

بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ کہ قریب ایک آٹھ منزلہ عمارت گر گئی تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔

اس عمارت میں کئی ورکشاپیں تھیں جن میں مغربی دنیا کے لیے سستے لباس تیار کیے جاتے تھے۔

امدادی کارکن ڈرل مشینوں کے ساتھ اور رضا کاروں خالی ہاتھوں سے زندہ بچ جانے والوں کی نکالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں روتے ہوئے افراد واقعے کی جگہ پر جمع ہیں۔

اس منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں کپڑا بنانے کے ایک کارخانے کے علاوہ ایک بینک اور متعدد دکانیں تھیں اور جس وقت یہ منہدم ہوئی وہاں ہجوم تھا۔

اطلاعات کے مطابق رانا پلازا نامی اس عمارت کی نچلی منزل ہی سلامت بچی ہے۔

ایک امدادی کارکن کے مطابق عمارت گرتے وقت تقریباً دو ہزار افراد عمارت کے اندر تھے۔

Image caption لوگ اپنے رشتہ داروں کے لاشوں کو ڈھونڈ رہے ہیں

مقامی ہسپتال زخمیوں سے بھرے گئے اور اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے۔

آگ بجھانے والے عملے ، فوجیوں اور رضاکاروں نے عمارت کے ملبے سے زندہ بچ جانے والے افراد کو نکالنے میں مدد کی۔

ایک امدادی کارکن عبدالکریم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’میں نے ان کو چلاتے سنا۔ ہم ان کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔‘

اے پی کے مطابق مسماۃ خورشیدہ روتے ہوئے اپنے شوہر کو تلاش کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ’وہ صبح کام پر آئے تھے۔وہ مجھے مل نہیں رہے۔مجھے نہیں پتہ وہ کہا ہیں۔ وہ فون نہیں اٹھا رہے۔‘

اس تباہی کے بعد بنگلہ دیش میں حفظاتی اقدامات پر سوالات اٹھائے جانےلگے ہیں۔

بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت کا شمار دنیا کی بڑی گارمنٹس صنعتوں میں ہوتا ہے جو مغربی ممالک کو سستے کپڑے مہیا کرتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کارخانے کے مالکان نے عمارت میں دراڑیں پڑنے کے بعد اپنے کارکنوں کو کارخانے کے اندر جانے نہ دینے کی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔

کہا جا رہا ہے کہ کارخانے کے مالکان اب روپوش گئے ہیں۔

ملک کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اس واقعے کے متاثرین کی یاد میں جمعرات کو سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس نے بدھ کو مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ پہلے تو اچانک عمارت کا عقبی حصہ گرا جس کے تھوڑی ہی دیر میں پوری عمارت زمیں بوس ہو گئی۔

مقامی پولیس چیف محمد اسدالزماں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ حالات ’تباہ کن‘ ہیں۔

کپڑوں کی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک کاریگر نے مقامی ٹی وی سوموئی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’میں فیکٹری کے کٹنگ کے شعبے میں کام کرتا ہوں، اچانک ہم نے عمارت کے گرنے کی زور دار آواز سنی اور عمارت چند منٹوں میں گر گئی۔‘

اس سے قبل نومبر میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی تھی جس میں کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے اور دارالحکومت ڈھاکہ میں ہی 2010 میں ایک چار منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونےکے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں