’وہ نیویارک میں دھماکے کرنا چاہتے تھے‘

Image caption پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ افراد کے پاس پریشر کوکر بم اور پانچ پائپ بم تھے

امریکہ کے شہر نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ نے کہا ہے کہ بوسٹن بم دھماکوں میں ملوث مشتبہ افراد نے اپنے باقی دھماکہ خیز مواد سے ٹائم سکوئر میں دھماکا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

مائیکل بلوم برگ جمعرات کو سٹی ہال میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ جوہر سارنائیف نے ایف بی آئی کو بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی نے یکدم فیصلہ کیا کہ دوسرا ٹارگٹ نیو یارک ہوگا۔

اس موقع پر پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ افراد کے پاس پریشر کوکر بم اور پانچ پائپ بم تھے۔

واضح رہے کہ پندرہ اپریل کو ہونے والے بوسٹن میراتھن دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 260 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

مائیکل بلوم برگ نے کہا کہ’گذشتہ شب ایف بی آئی نے ہمیں معلومات فراہم کیں کہ زندہ بچ جانے والے حملہ آور نے انکشاف کیا ہے کہ نیویارک ان کا دوسرا ہدف تھا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’وہ اور ان کے بھائی کا گاڑی میں نیویارک آ کر ان دھماکا خیز مواد سے دھماکا کرنے کا ارادہ تھا۔‘

پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے کہا کہ دونوں بھائیوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ گذشتہ جمعرات یعنی آٹھارہ اپریل کی رات کو بوسٹن میں ڈرائیور سمیت گاڑی اغوا کرکے نیویارک جائیں گے۔

انہوں نےکہا لیکن ’یہ منصوبہ اس لیے ناکام ہوا جب انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی اغوا کی گئی گاڑی میں گیس کم ہے تو انہوں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ڈرائیور نے فرار اختیار کرکے پولیس کو خبردار کیا۔‘

پولیس نے دونوں بھائیوں کو چوری شدہ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے روک لیا جس کی وجہ سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور جس میں تیمرلان سارنائیف مارا گیا۔

جوہر سارنائیف اب ہسپتال میں پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر بڑی تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو قتل کرنے کا فردِ جرم عائد کیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق سولہ گھنٹے کی تفتیش کے بعدجوہر سارنائیف کو جب ان کا خاموش رہنے اور وکیل رکھنے کا حق پڑھ کر سنایا گیا تو انہوں نے تفتیش کاروں کے سوالات کے جواب دینا بند کر دیے۔

ادھر روسی میڈیا نے خبر دی تھی کہ ان کے والدین، انزور سارنائیف اور زبیدہ امریکہ جائیں گے۔

سارنائیف خاندان کا تعلق مسلم اکثریتی آبادی والی روسی ریاست چیچنیا سے ہے۔

اسی بارے میں