سپین میں بے روزگاری کی شرح ریکارڈ سطح پر

Image caption سپین میں سنہ 1976 کے بعد یہ بے روز گاری کی سب سے بڑی شرح ہے

سپین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پہلی سہ ماہی کے دوران بے روز گاری کی شرح 27.2 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

ان اعدادوشمار کے مطابق سپین میں بے روز گار افراد کی تعداد 6 ملین کی حد عبور کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ یہ اعداد و شمار سپین میں گزشتہ پانچ برس سے جاری اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

سپین کے دارالحکومت میڈریڈ میں حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کی مناسبت سے کیے جانے والے اقدامات کے خلاف ایک بڑے مظاہرے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ادھر سپین کے وزیر اعظم ماری آنو راہوئے جمعہ کو یورو زون کی چوتھی بڑی معیشت میں جاری کسادی بازاری کو کم کرنے کے لیے ملکی محاصل سے متعلق پالیسی کا اعلان کریں گے۔

انھوں نے بدھ کو پارلیمان کو بتایا ملک میں نوکری کی صورت حال پورے سال کے لیے اچھی نہیں ہو گی تاہم یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں کم بری ہو گی۔

دوسری جانب سٹی بینک کے جوز لیوس مارٹینز کا کہنا ہے کہ سپین کے سرکاری اعداد و شمار توقع سے زیادہ برے اور یہ اس کی معیشت کی بری حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ سپین میں رواں برس بے روز گاری کی سطح 27 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

خیال رہے کہ سپین میں سنہ 1976 کے بعد یہ بے روز گاری کی سب سے بڑی شرح ہے۔

اسی بارے میں