ڈھاکہ:فیکٹری مالکان گرفتار، ہلاکتیں 336

ڈھاکہ
Image caption رانا پلازہ نامی اس آٹھ منزلہ عمارت میں حادثے کے وقت قریب تین ہزار افراد موجود تھے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے میں تین روز قبل منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں واقع دو فیکٹریوں کے مالکان نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس نے متاثرہ عمارت کی تعمیر میں حصہ لینے والے دو انجینیئرز کو گرفتار کیا ہے۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین سو چھتیس ہو گئی ہے جبکہ سنیچر کو متاثرہ عمارت کے ملبے تلے دبے مزید چوبیس افراد کو زندہ نکالا گیا ہے اور اب بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ چھ سو افراد لاپتہ ہیں۔

امدادی کارکنوں نے مبلے تلے دبے بعض افراد تک آکسیجن کے سلینڈر اور پانی پہنچانے کی کوشش کی ہے تاکہ انھیں وہاں سے نکالے جانے تک ان میں زندگی کی رمق باقی رہ سکے۔

اس سے پہلے محبوب الرحمن اور صمد عدنان دونوں فیکٹری مالکان کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت میں شگاف آ جانے پر متنبہ کیے جانے کے بعد بھی انھوں نے اس عمارت میں کام کرنے والے اپنے ملازمین کو وہاں کام کرنے کے لیے مجبور کیا۔

حکام کے مطابق رانا پلازہ نامی اس عمارت کے گرنے سے اب تک کم از کم 336 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ عمارت بدھ کی صبح اس وقت گری تھی جب وہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جب وہ عمارت گری تھی تو اس وقت اس میں قریب 3000 افراد تھے۔

Image caption بنگلہ دیش میں عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

محبوب الرحمن اور صمد عدنان جو نیو ویو بٹن اور نیو ویو سٹائل فیکٹریوں کے مالکان ہیں نے سنیچر کی صبح خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈھاکہ پولیس کی نائب سربراہ شیامی مکھرجی کا کہنا ہے کہ ان دونوں پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔

ان دونوں فیکٹری مالکان نے بدھ کو مبینہ طور پر عمارت میں شگاف نظر آنے کے باوجود اپنے سٹاف کو کام پر آنے کے لیے زور ڈالا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس عمارت میں کپڑوں کی مزید تین فیکٹریاں تھیں۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے جمعہ کو ایوان نمائندگان سے کہا ’اس حادثے کے ذمہ دار بطور خاص وہ مالکان جنھوں نے اپنے ملازمین پر کام کے لیے دباؤ ڈالا تھا انھیں سزا دی جائے گی‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو گا اسے ڈھونڈ نکالا جائے گا اور اسے سزا دی جائے گی۔

جمعہ کو قریب دس ہزار افراد نے اس حادثے کے خلاف مظاہرہ کیا اور عمارت کے مالکان کو گرفتار کرنے اور کپڑے کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حالات کی بہتری کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران ڈھاکہ میں کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں