ڈھاکہ:منہدم عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، مالک گرفتار

ڈھاکہ
Image caption عمارت گرنے کے وقت وہاں قریب تین ہزار افراد موجود تھے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے میں منہدم ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے امدادی کاررائیوں میں خلل آ گیا ہے جس سے ملبے میں پھنسے مزید لوگوں کو ڈھونڈ نکالنے کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

بدھ کے روز منہدم ہونے والی عمارت میں 377 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔

ادھر حکام نے فیکٹری کے مالک محمد سہیل رانا کو بھارتی سرحد کے قریب سے گرفتار کر کے انہیں ڈھاکہ پہنچا دیا ہے۔

پولیس نے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سہیل رانا کی بیگم کو حراست میں لے رکھا تھا۔ سہیل رانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برسراقتدار جماعت عوامی لیگ کے یوتھ ونگ کے رہنما ہیں۔

امدادی کارکنوں کا خیال ہے کہ عمارت کے ملبے تلے مختلف جگہوں پر پھنسے افراد کو بچانے کی امید اب بھی باقی ہے گوکہ وہ ہر لمحے معدوم ہوتی جا رہی ہے جبکہ امدادی کام اپنے پانچویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔

دو افراد کو اتوار کی صبح زندہ نکالا گیا ہے جبکہ مزید نو لوگ اب بھی زندگی اور موت کے درمیان معلق ہیں۔

جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے امبراسن ایتھیراجن کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کہ حکومت ملبہ ہٹانے کے لیے بڑی مشینیں لائے، وقت کے خلاف زندگی کی دوڑ جاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملبے سے لاشیں نکالنے اور دفنانے کے عمل کے دوران بدبو کی وجہ سے کئی امدادی کارکن بیمار پڑ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کو 29 افراد کو اس عمارت کے ملبے سے زندہ نکالا گيا تھا اور اب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ ان نو افراد کو بچانے پر مرکوز ہے جو ان کی نگاہ میں ہیں اور جن کی آوازیں ان تک پہنچ رہی ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 353 ہو گئی ہے جس میں سے 301 افراد کی لاش کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ 2431 لوگ اس حادثے میں زخمی ہوئے ہيں۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چھ سو افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

فائر سروس کے ایک اعلیٰ اہلکار اکرم حسین کا کہنا ہے کہ لا پتہ لوگوں کی تعداد کے سرکاری اعدادو شمار نہیں لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ہر لمحے ان کے بچنے کی امیدیں کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔

فائر سروس آپریشن کے سربراہ محبوب الرحمن نے کہا کہ بچانے کی کوششیں مشکل تر ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ اب اس میں پھنسے لوگ رابطہ کرنے کی طاقت کھوتے جا رہے ہیں۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ملبے میں بہت ساری لاشیں ہیں لیکن ہماری ترجیحات میں زندہ لوگوں کو تلاش کرکے بچانا شامل ہے۔اس میں ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں جن کی کمزور چیخیں ہمیں سنائی دے رہی ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو ملبے کے نیچے بات کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔‘

محبوب نے کہا کہ ’بچانے والے دستے خالی ہاتھوں، ڈرل مشیں اور پھاوڑے سے ملبے کے نیچے پھنسے زندہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سرنگیں کھود رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شہتیر اور ستون بچاؤ کے کام میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ ہم بعض اوقات انہیں دیکھ کر بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔‘

اس سے قبل بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اعلان کے بعد کہ اس حادثے کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی کے بعد رانا پلازہ نامی اس عمارت میں قائم تین فیکٹریوں کے مالکان کو حراست میں لیا گیا جبکہ دو انجینیئروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

Image caption حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں

ان دونوں انجینيئروں پر الزام ہے کہ انھوں نے اس عمارت کی سیفٹی کو عمارت گرنے سے ایک دن قبل منظوری دی تھی۔ ان پر لاپرواہی برتنے کا الزام ہے جس کی وجہ سے اتنی زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

ایک وزیر نے یہ الزام لگایا ہے کہ رانا پلازہ کی تعمیر کسی سرکاری اجازت نامے کے بغیر ہوئی ہے۔ یہ عمارت بدھ کی صبح اس وقت گری تھی جب وہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔

بنگلہ دیش میں حفاظتی معیار سے غفلت کے نتیجے میں عمارتوں کے منہدم ہونے یا ان میں آتشزدگ کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں ڈھاکہ میں کپڑوں کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 110 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں