شامی وزیراعظم بم حملے میں بال بال بچ گئے

Image caption ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کار بم دھماکہ تھا یا کار خودکش حملہ تھا

شام کے وزیراعظم وائل الحلقی کو دارالحکومت دمشق میں کار بم حملے میں نشانہ بنایا گيا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق وہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم وائل الحلقی کے قافلے پر دمشق کے ضلع مذیح میں حملہ کیا گيا جس میں وہ تو بچ گئے لیکن اس حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں انسانی حقوق سے متعلق شامی کارکنان نے بتایا ہے کہ اس حملے میں وزیراعظم وائل الحلقی کے محافظ ہلاک ہوئے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا یا پھر بم کار میں نصب کیا گيا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پارکنگ میں کھڑی ایک کار میں بم نصب تھا۔

لیکن پہلے یہ خبر دی گئی تھی کہ یہ خود کش حملہ تھا۔ جائے حادثہ کی ویڈیو میں شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں اور آگ بھجانے کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ایک کار اور ایک بس جل کر خاکستر ہوگئی۔

ضلع مذیح پر شام کی حکومت کا کنٹرول ہے جہاں پر ایک فوجی ہوائی اڈہ بھی ہے۔ یہ اڈہ دفاعی نقطۂ نظر سے حکومت کے لیے بہت اہم ہے۔

دارالحکومت دمشق میں فری سیرئین آرمی اور حکومتی افواج کے درمیان کافی دنوں سے لڑائی جاری ہے لیکن ابھی تک کسی فریق کو غلبہ حاصل ہوتا نہیں دکھائی دیتا۔

وزیراعظم پر یہ حملہ حکومتی کنٹرول والے علاقوں میں ہونے والے حملوں میں سے ایک ہے۔

حالیہ دنوں میں باغیوں نےحکومتی کنٹرول والے علاقوں پر ایسے کئی حملے کیے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں