’حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ‘

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دولت مشترکہ پر زور دیا ہے کہ سری لنکا میں حقوق انسانی کی صورتحال بہتر نہ ہونے تک وہاں دولت مشترکہ کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس منعقد نہ کیا جائے۔

تنظیم نے سری لنکا کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں شدت لا رہا ہے۔

تنظیم نے دولتِ مشترکہ پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہ ہونے تک سری لنکا میں دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس منعقد نہ کیا جائے۔

گزشتہ کچھ برسوں سے سری لنکا میں ناقدین کے لیے گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور ملک خوف کی فضا ہے، حکومت کے خلاف آواز اُٹھانے والے افراد کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

رواں سال نومبر میں دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس کولمبو میں ہو گا اور آئندہ دو سال تک سری لنکا دولتِ مشترکہ کی صدارت سنبھالے گا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں ختم نہ ہونے تک اجلاس منعقد نہ کیا جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو ہراساں کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔جبکہ سری لنکا نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کئی برسوں سے جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد بحالی کا عمل جاری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں سری لنکا پر تنقید کی گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا اور بحرالکاہل کے ڈائریکٹر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ’سری لنکا میں سیاسی طاقت کا مجموعہ ہی مخالفین کے خلاف ظلم کر رہا ہے‘۔

گزشتہ ہفتے دولتِ مشترکہ کے وزراء خارجہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سالانہ اجلاس کے انعقاد پر متفق ہوئے تھے جبکہ کینیڈا نے سری لنکا میں اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی تھی۔

کینیڈا کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ’اس اجلاس کے انعقاد کے لیے سری لنکا کو منتخب کرنا کافی حیران کُن ہے جبکہ سری لنکا دولت مشترکہ کی آزادی، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسی بینادی قدروں پر عمل درآمد میں بھی ناکام رہا ہے ‘۔

سری لنکا کی کابینہ کے ترجمان اور وزیر اطلاعات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کینیڈا کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

’ہم انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ان (کینیڈا) کا بیان جانبداری اور ناانصافی پر مبنی ہے‘۔

Image caption گزشتہ ہفتے دولتِ مشترکہ کے وزراء خارجہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سالانہ اجلاس کے انعقاد پر متفق ہوئے تھے

2009 میں چھبیس سال کے بعد سری لنکا کی فوج نے تامل باغیوں کو شکست دی تھی اور اس لڑائی میں کم از کم ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سری لنکا میں لڑائی کے دوران مخالفین اور فوج دونوں ہی کی جانب سے ایک دوسرے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا لیکن لڑائی کے آخری دنوں میں ملک کے شمال میں ہزاروں افراد ایک جگہ پر محصور ہو گئے تھے اور تقریباً 9000 سے 75000 افراد لڑائی کے آخری ایام میں مارے گئے۔

اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے گزشتہ ماہ ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سری لنکا کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ ملک میں جنگی جرائم سے متعلق آزادانہ تحقیقات کرائے۔